1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی بچوں کے لیے مفت کھانا، اب چھٹیوں میں بھی

بھارتی عدالت نے حکم دیا ہے کہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو نہ صرف پڑھائی کے اوقات میں بلکہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بھی مفت کھانا فراہم کیا جائے

یہ حکم ملک میں جاری اس خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دیا گیا ہے جو بھارت میں آنے والی اب تک کی خشک سالیوں میں سب سے بد ترین شمار کی جا رہی ہے۔

تمام بھارت میں قریب 120 ملین طالب علم مفت کھانے کے منصوبے سے مستفید ہوتے ہیں،لیکن انہیں یہ سہولت تعطیلات کے دوران حاصل نہیں ۔ یہ دنیا بھر میں اسکولوں کی سطح پر خوراک کی فراہمی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

تاہم ملک کی آبادی کے چوتھائی حصے کو شدید قحط کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں کسانوں کے خود کشی کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بیشتر کسان گزر بسر کے لیے یومیہ مزدوری کی تلاش میں بڑے قصبوں اور دیہاتوں کا رخ کر رہے ہیں۔

Indien Telangana Trockenheit Wassermangel Baumwollfeld

بھارت میں خشک سالی خوفناک حد تک بڑھی ہوئی

بھارت کی عدالت عظمی نے ایک درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ایسے احکامات جاری کیے ہیں کہ قحط سے متاثرہ بچوں کو حکومتی منصوبوں کے تحت ہفتے میں چھ دن کھانا فراہم کیا جائے، جس میں دودھ یا انڈے بھی شامل ہوں۔

بارشوں کی قلت کی وجہ سے حکومت انتہائی اقدامات کررہی ہے جیسے کہ پانی کے بے جا استعمال پر پابندی، پانی کے ذخیروں پر مسلح گارڈز کی تعیناتی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ٹرینوں کے ذریعے پانی کی ترسیل۔

بھارتی حکومت پر قحط کے مسئلے کے حل کے لیے شدید دباؤ ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں کم سے کم تین ریاستوں کے وزرائے اعلی سے اس بارے میں بات کی ہے۔

Indien Shankargarh Trockenheit Wassermangel Kinder

پانی کی قلط کے سبب بہت سے بچے بیماریوں کا شکار ،یہاں تک کہ موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں

خوراک کی مفت ترسیل کا منصوبہ بھارت میں قومی سطح پر 2001 ء میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد غریب اور کمزور بچوں کو گھروں میں بھوکا بیٹھنے یا پیسے کمانے میں والدین کی مدد کرنے کے بجائے اسکول آنے کی ترغیب دینا تھا۔

2015 ء کے گلوبل ہنگر انڈیکس یا 'جی ایچ اّئی' کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت بیسویں نمبر پر ہے جس پر عالمی بینک کا کہنا یہ ہے کہ دنیا بھر میں بچوں میں غذائی قلت کی یہ سب سے زیادہ شرح ہے،جو ذیلی صحارائی افریقہ کی شرح کا تقریبا دو گنا ہے۔

قحط زدہ علاقوں کے بچوں میں خوراک کی کمی کے معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھانے والے یوگیندرا یادو نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ اس پر جلد از جلد عمل درآمد کرایا جائے۔

DW.COM