1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بھارتی ایٹمی ری ایکٹر نئی دہلی کی سڑکوں سے کم خطرناک‘

بھارتی ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ کے مطابق اس ملک کو اپنے بیس جوہری ری ایکٹروں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کے بقول ان ری ایکٹروں کے مقابلے میں دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر پیدل چلنا یا گاڑی چلانا کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

default

ممبئی کے نواح میں بھارت کی ایٹمی تحقیقی تنصیبات

سری کمار بینرجی نے، جو بھارت میں ایٹمی توانائی کے کمیشن کے سربراہ ہیں، اپنے اس بیان کے ذریعے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، جو جاپان میں زلزلے کے نتیجے میں فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ کی بحرانی صورت حال کے بعد جنوبی ایشیا کے اس ملک میں اس کی نیوکلیئر تنصیبات کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔

Symbolbild Kernkraft Indien Russland

بھارت کے ایٹمی پروگرام میں نئی دہلی کو ماسکو کی کافی مدد حاصل رہی

بینرجی نے نئی دہلی کے ٹیلی وژن ادارےNDTV کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ بھارتی باشندوں کو نئی دہلی کی سڑکوں پر پیدل چلنے یا وہاں گاڑی چلانے کے مقابلے میں اپنے ملک کی ایٹمی تنصیبات کے بارے میں کم فکر مند ہونا چاہیے۔‘‘ اپنے اس انٹرویو میں بھارتی ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جاپان میں فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثات کے بعد بھارت میں اسی سلسلے میں پائے جانے والے خدشات کا اظہار بڑھا چڑھا کر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جاپان کے فوکو شیما پاور پلانٹ کے ری ایکٹروں سے خارج ہونے والے تابکاری اثرات انتہائی معمولی نوعیت کے ہیں اور جیسے ہی اس طرح کی تابکاری فضا میں شامل ہو جاتی ہے، اس کے اثرات مزید کم اور غیر اہم ہو جاتے ہیں۔‘‘ تاہم بھارتی ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ نے یقین دلایا کہ احتیاطی طور پر بھارت کے تمام ایٹمی ری ایکٹروں کو ایسے جامع stress tests سے گزارا جائے گا، جن کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ یہ ری ایکٹر زلزلے کے شدید جھٹکے برداشت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

Indien Verkehr

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں صبح کے وقت ٹریفک کا رش

دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک بھارت ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ وہاں توانائی کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ ان دنوں بھارت کا شمار دنیا بھر میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی منڈیوں میں ہوتا ہے۔ بھارت سن 2023 تک اپنی ایٹمی بجلی گھروں میں پیدا ہونے والی توانائی میں کئی گنا اضافہ کر کے ایسی بجلی کی مجموعی پیداوار 63 ہزار میگا واٹ تک کر دینا چاہتا ہے۔ اس وقت بھارت کے ایٹمی پاور پلانٹس سے حاصل ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار 4780 میگا واٹ بنتی ہے۔

سری کمار بینرجی نے بھارتی ایٹمی تنصیبات کے محفوظ ہونے کے حوالے سے نئی دہلی کی سڑکوں کے بہت پرخطر ہونے کا جو ذکر کیا، وہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بھارت میں ملکی دارالحکومت اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر ہر سال بے شمار ٹریفک حادثات میں کتنے زیادہ انسان ہلاک ہو جاتے ہیں۔

بھارت میں ٹریفک حادثات کے حوالے سے تاحال دستیاب تازہ ترین سالانہ اعداد و شمار سن2009 کے ہیں۔ 2009ء میں بھارت کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار رہی تھی۔ یہ شرح روزانہ بنیادوں پر 350 انسانی ہلاکتیں بنتی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس