1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ایلیٹ فورس کے درجنوں کمانڈوز لاپتہ

جنگلوں میں عسکری کارروائیاں کرنے والے بھارت کے ایلیٹ سکیورٹی دستوں کے درجنوں اہلکار اچانک لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ بھارتی کمانڈوز اپنی اولین تعیناتی پر ملک کے مشرقی حصے میں سفر پر تھے کہ یکدم ’گم‘ ہو گئے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے پیر چھ فروری کو ملنے والی رپورٹوں میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اپنی خصوصی تربیت مکمل کر لینے کے بعد یہ سکیورٹی اہلکار اپنے عملی فرائض کی انجام دہی شروع کرنے کے لیے بائیں بازو کے ماؤ نواز باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں سے ایک کی طرف سفر پر تھے۔

ان پیراملٹری سپاہیوں کو آج پیر کو علی الصبح اپنی منزل پر پہنچا تھا تاہم اس تعیناتی سے صرف ایک رات قبل 60 کے قریب یہ تمام نیم فوجی اہلکار بذریعہ ریل مشرقی بھارتی ریاست بہار جاتے ہوئے اتوار کو رات گئے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس وقت راستے ہی میں اتر گئے، جب ان کی ریل گاڑی ایک اسٹیشن پر رکی تھی۔

اس بھارتی سکیورٹی فورس کے اعلیٰ اہلکاورں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ریل گاڑی سے اترنے کے بعد سے ان کمانڈوز کا کوئی پتہ نہیں ہے: ’’ان 59 کمانڈوز نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کو بھی اپنا سفر راستے ہی میں ختم کرنے یا ٹرین سے اترنے کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق یہ معاملہ بھارت کی اس سکیورٹی فورس کے لیے کافی شرمندگی کی وجہ بھی بن رہا ہے کیونکہ حکام اگرچہ اپنی چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم بظاہر یہ بات قابل فہم نہیں کہ یہ پانچ درجن  کے قریب پیراملٹری کمانڈوز اچانک کہاں چلے گئے۔

Indien Maoisten Guerrilla (Getty Images/AFP/N. Seelam)

بھارت کی کئی ریاستوں میں ماؤ نواز باغی تحریکیں سالہا سال سے جاری ہیں

بھارت کے بہت سے صوبوں میں ماؤ نواز باغی اپنی درجنوں مسلح تحریکیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور نئی دہلی میں تقریباﹰ سبھی ملکی حکومتیں انہیں قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی آئی ہیں۔

یہ ماؤ نواز باغی خاص طور پر قدرتی وسائل سے مالا مال اور زیادہ تر جنگلاتی علاقوں والی بھارتی ریاستوں میں زیادہ فعال ہیں، جن میں سے چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار، جھاڑ کھنڈ اور آندھرا پردیش کے نام سرفہرست ہیں۔

بائیں بازو کی ان ماؤ نواز کمیونسٹ تحریکوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی اس جدوجہد کے ذریعے انتہائی حد تک غربت کے شکار مقامی باشندوں اور محروم قبائلی آبادیوں کے لیے زمین، ملازمتوں اور دیگر بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

DW.COM