1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ایئرلائنز کے لئے سیکیورٹی بڑھانے کی سفارش

بھارتی وزارت داخلہ نے ملکی فضائی کمپنیوں کواپنے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تجویز ’عسکریت پسندوں کی جانب سے ایئر انڈیا کے کسی طیارے کو ہائی جیک کرنے‘ کے خطرے کے تناظر میں دی گئی ہے۔

default

سیکیورٹی حکام نے جمعہ کی شام بتایا کہ اس خطرے کے بعد ملکی ایئرڈیفنس کو خبردار کر دیا گیا ہے جبکہ وزارت داخلہ کے ذرائع کے بقول شہری ہوابازی کے حکام کو بھی کسی بھارتی طیارے کے ممکنہ طور پر ہائی جیک کئے جانے کے خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے شدت پسند گروہ کر سکتے ہیں جو بھارتی مفادات کے خلاف ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی گروہ کا نام نہیں لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، لیکن تجویز دی گئی ہے کہ مسافروں کی جامہ تلاشی سمیت سیکیورٹی

Mehr als 100 Tote bei Terrorserie in Bombay

نومبر 2008 میں ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے ہوئے

کے اقدامات بڑھائے جائیں۔ نئی دہلی میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سارک ممالک جانے اور وہاں سے آنے والے مسافر طیاروں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

دوسری جانب بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ملکی وزارت داخلہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ گلائیڈرز کی مدد سے فضائی حملے بھی کر سکتی ہے۔ بھارتی ایئرفورس کا کہنا ہے کہ ممکنہ فضائی حملے کے پیش نظر کڑے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم ایئرفورس حکام نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی شدت پسند گروہ کی جانب سے ایئر گلائیڈرز کے ذریعے فضائی حملہ غیرمتوقع ہے۔

خیال رہے کہ آئندہ منگل کو بھارت میں یوم جمہوریہ کی سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کئے جاتے ہیں۔ تاہم بھارت میں اب سیکیورٹی کے شعبے میں بہت بڑی رقوم خرچ کی جا رہی ہیں۔

نومبر 2008ء میں ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان حملوں میں کم ازکم 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے، جو ابھی تک دوبارہ معمول پر نہیں آ سکے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM