1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارتی اور پاکستانی کمپنیاں گرین انرجی ایوارڈ کی حقدار

پائیدار توانائی سے متعلق ہر سال کسی کمپنی کو دیا جانے والا Ashden Award اس بار چارفرموں کو دیا گیا۔ اعلیٰ درجے کی شہرت کے حامل اس ایوارڈ کو حاصل کرنے والی ہر فرم کو 20 ہزار پونڈ یا 22 ہزار 800 یورو کا انعام دیا گیا۔

default

بھارت میں کم توانائی سے جلنے والے لیمپس بھی تیار کیے جا رہے ہیں

بھارت کی دو کمپنیاں، جو پیداواری عمل کے بعد بچ جانے والی ناقابل استعمال اشیا کی ری سائیکلنگ کے ذریعے ان سے توانائی پیدا کرنے کا کام انجام دیتی ہیں اور ایک ایسی پاکستانی فرم جو گھروں میں توانائی بچانے کے آلات نصب کرتی ہیں، کو لندن میں ’گرین انرجی ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔ اس باوقار برطانوی انعام کی تقسیم کی تقریب کا انعقاد لندن میں ہوا۔ یہ سلسلہ 2001ء میں شروع ہوا تھا۔ اس کا مقصد صاف اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کے رجحان کو مقامی سطح پر فروغ دینا اور ایسی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو ماحول دوست توانائی کے حصول کے لیے نت نئی تکنالوجی کے استعمال سے نئے نئے پروجیکٹس متعارف کر وا رہی ہیں۔ اس طرح مختلف معاشروں کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجزسے نمٹنے اور غربت کے خاتمے کی مہم کو تقویت ملے گی۔

Junge Inder mit Solar-Lampen

سولر انرجی کے استعمال سے لیمپ جلانے کا نجربہ

امسالہ Ashden Award کا اعلیٰ ترین یعنی گولڈن ایوارڈ حاصل کیا گھانا کی ایک کمپنی ’ تویولا انرجی لیمیٹڈ‘ نے۔ اسے 40 ہزار پونڈ سے نوازا گیا۔ اس کمپنی نے ایسے چولہے تیار کیے ہیں، جس میں بہت کم کوئلہ جلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ گھریلو چولہوں کا ایک روایتی ماڈل ہے، جو کم آمدنی والے گھرانوں میں بھی آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس بار Ashden Award حاصل کرنے والی چار بین الاقوامی کمپنیوں میں سے دو کا تعلق بھارت اور ایک کا پاکستان سے ہے۔ بھارتی کمپنی Abellon Clean energy Ltd, اورHusk Power System اور پاکستان کی پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔

بھارتی کمپنی Abellon ریاست گجرات میں قائم ہے اور یہ فصل کے فضلہ سے بائیو گولیاں تیار کرتی ہے جو صنعتوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کی مدد سے روایتی صنعتی ایندھن کی جگہ آلودگی سے پاک ایندھن دستیاب ہوگا۔ دوسری جانب یہ کسانوں کو ناقابل استعمال اشیا کی فروخت کے لیے ایک نئی مارکٹ فراہم کریں گی۔

Aufbau eines Energiekiosks in Indien

پاکسنان میں گاؤں کو شمسی توانائی فراہم کرنے والے متعدد پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہے

Husk Power System مشرقی بھارت کے علاقے بہار میں قائم ہے۔ اس کمپنی نے چاولوں کے چھلکے جیسے ناقابل استعمال فاضل شے سے بجلی پیدا کرنے کی تکنیک ایجاد کی ہے۔ اس طرح دور افتادہ گاؤں میں بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

پاکستانی کمپنی ’پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس کو اس بار کے Ashden Award سے اس لیے نوازا گیا کہ اس نے کوہستانی علاقوں کے دیہات میں توانائی کی بچت کا ایک نیا پروجیکٹ متعارف کرایا ہے۔ اس کمپنی نے مقامی سطح پر تیار کیے گئے آلات کی مدد سے گھروں کو گرم رکھنے کی تکنیک کو قابل عمل بناتے ہوئے توانائی کی بچت کو ممکن ثابت کر دیا ہے۔ اس کمپنی میں زیادہ تر بڑھئی اور دھات کا کام کرنے والے ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ کم توانائی سے جلنے والے چولہے، واٹر ہیٹرزاور وال اور فلور انسولیشن تیار کرتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس