1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی انتخابات، کمیونسٹ لیڈر پریشان

بھارتی الیکشن میں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آ چکی ہے کہ کوئی بھی اتحاد یا جماعت کلی طور پر کامیاب ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔ بھارت میں اگلا اقتدار کس کے ہاتھ جاتا ہے۔

default

بھارت میں انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

بھارت میں عام انتخابات کے انعقاد میں اب چند دن ہی باقی بچے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کو بے یقینی کا سامنا ہے۔ بھارتی الیکشن کے حوالے سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت قطعی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

عام الیکشن میں بھارت کی مضبوط کمیونسٹ پارٹیوں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور سے مغربی بنگال میں عشروں سے دیہی آبادی کے کسانوں کی پسندیدہ جماعت کمیونسٹ پارٹی رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کو ووٹ اِس لئے دیتے رہے ہیں کہ اُس نے اُن کو کاشتکاری کے لئے زمینیں دیں تھیں مگر اب یہی جماعت اُن زمینوں کو ہتھیانے کی کوششوں میں ہے۔ سن دو ہزار سات سے لے کراب تک کمیونسٹ پارٹی کی صوبائی حکومت کے پیش کردہ صنعتی منصوبوں کے فروغ کی مخالفت میں پچاس کسانوں کو مظاہروں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ اِس صورت حال کو کمیونسٹوں کی مخالف جماعتیں استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹ بینک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اِس بات کا امکان ہے کہ بھارتی صوبے مغربی بنگال میں بتیس سال بعد بائیں بازو کی جماعت کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔

Prakash Karat CPIM Partei in Indien

کمونسٹ پارٹی کے پرکاش کارت

جوں جوں الیکشن قریب ہیں توں توں عوامی اور سیاسی حلقے وزیراعظم کے نام پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے لال کرشن ایڈوانی کا نام سامنے ہے۔ بھارت کی کانگریس پارٹی نے اپنے منشور کے اعلان کے وقت کہا تھا کہ کامیابی کی صورت میں موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو اِس عہدے کے لئے برقرار رکھا جائے گا۔ کچھ کے خیال میں لوک جَن شکتی پارٹی کے صدر، دلت لیڈر رام ولاس پاسوان چھپے رستم ثابت ہو سکتے ہیں۔ سولہ مئی کے نتائج کے بعد ہی جوڑ توڑ کا عمل پوری قوت سے شروع ہوگا۔

Contentbanner Wahl Indien

دوسری طرف عالمی اقتصادی بحران کے تناظر میں انتخابی گہما گہمی سے بھارتی اقتصادیات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم پر سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے رقوم خرچ کرنے کی وجہ سے عبوری عرصے کے لئے کئی ہزار افراد کو روزگار فراہم حاصل ہوا ہے۔ اس اخراجات کی وجہ سے بھارتی معاشیات میں بھی حرکت ہو رہی ہے گو یہ بھی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ الیکشن کے بعد ایک بار پھر بھارتی اقتصادیات میں سست روی پیدا ہونے سے مجموعی شرح ترقی کے سکڑنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

سات سو چودہ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سن دو ہزار چار کے مقابلے میں ووٹروں کی تعداد ، تینتالیس ملین سے زیادہ ہے۔ کُل پانچ سو تینتالیس نشستوں کے لئے انتخابی عمل کا انعقاد ہو گا۔