1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا آغاز

بھارت میں آج سے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ ان انتخابات میں ایک اعشاریہ ایک ارب بھارتی باشندوں میں سے سات سو ملین سے زیادہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے۔

default

عوام بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں

سلامتی اور انتظامی وجوہات کی بناء پر یہ انتخابات پانچ مراحل پر پھیلے ہوئے ہیں اور تیرہ مئی تک جاری رہیں گے۔ سولہ مئی کو نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

بھارت کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کیا رہیں گے، اِس بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ مبصرین بھی کوئی پیشین گوئی کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔

Wahlen in Indien 2009

کئی مقامات پر ووٹروں لمبی قطاروں میں لگے دکھائی دے رہے ہیں

سونیا گاندھی، حکمران کانگریس پارٹی کی صدر، جو اپنی جماعت کی کامیابی کی صورت میں عنانِ اقتدار ایک بار پھر من موہن سنگھ کے ہاتھوں میں دیں گی اور یوں درپردہ ایک بار پھر بھارت کی اصل حکمران رہیں گی۔

تقسیمِ ہند سے لے کر اب تک بھارت کے سیاسی منظر نامے پر نہرو خاندان ہی کی چھاپ رہی ہے۔ ممتاز ماہرِ سیاسیات نرسمہا راؤ کے مطابق اب بھی اِس خاندان کے بغیر کانگریس پارٹی کی کامیابی کے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

’’بھارتی باشندے کی نظریں اِس طرح کے خاندانوں کی جانب اٹھتی ہیں۔ اِس طرح کی خاندانی سیاست پر اُنہیں اعتماد ہے۔‘‘

سونیا کے بیٹے راہول گاندھی کانگریس پارٹی کے ولی عہد کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور اپنے خاندان کی پانچویں نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے خاص طور پر اپنی کامیاب معاشی اور سماجی پالیسیوں کی جانب توجہ دلائی۔ عوام کو بتایا گیا کہ اقتصادی ترقی کی رفتار نو فیصد سالانہ تک جا رہی ہے، مختلف صنعتی شعبوں کو ترویج و ترقی دی گئی ہے، بھارت امریکہ کے زیادہ قریب آیا ہے اور پاکستان کے ساتھ مکالمت کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اِس کے برعکس اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ بہت سے امدادی پروگراموں کو عملی شکل دینے میں حکومت کو مشکلات پیش آتی رہی ہیں اور داخلی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

Wahlen in Indien

بھارت انتخابات میں مسلم ووٹروں کو بھی خاص اہیمت حاصل رہی ہے

اس طرح کی جذباتی بیان بازی بھارتی عوام میں بہت پسند کی جاتی ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں میں سے کوئی بھی ان انتخابات میں کامل فتح حاصل نہیں کر پائے گی۔ اِس صورت حال کا فائدہ کمیونسٹوں اور علاقائی جماعتوں پر مشتمل تیسرے محاذ کو پہنچ سکتا ہے، حالانکہ اُس کا کوئی مشترکہ منشور بھی نہیں ہے۔

سب سے بڑی بھارتی ریاست اُتر پردیش کی وزیر اعلیٰ اور دلیتوں کی نمایاں ترین ترجمان مایا وتی کو خاص طور پر نچلے پسماندہ طبقے کی حمایت ملنے کا قوی امکان ہے۔ یہ طبقہ خوشحال متوسط طبقے کے مقابلے میں زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتا ہے۔ سیاسی ماہر نرسمہا راؤ کہتے ہیں: ’’کم آمدنی والے طبقات میں تبدیلی کے لئے کہیں زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے۔‘‘

تاہم مختلف سرکاری محکموں اور سیکیورٹی فورسز میں بدعنوانی، اقربا پروری اور نا اہلیت نے متوسط طبقے میں بھی اِس بار کافی تحریک پیدا کی ہے۔

سابینے ماتھائی (نئی دہلی)/امجد علی