1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی انتخابات، بدلتے عوامی رجحانات

بھارت میں عام الیکشن کے انعقاد میں اب گنتی کے دِن رہ گئے ہیں۔ سولہ اپریل سے شروع ہونے والے انتخابات پانچ مختلف مرحلوں میں ہوں گے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کو بے یقینی کا سامنا ہے۔

default

بھارتی الیکشن کے حوالے سے یہ اب واضح ہو گیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت قطعی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سات سو چودہ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سن دو ہزار چار کے مقابلے میں ووٹروں کی تعداد ، تینتالیس ملین سے زیادہ ہے۔ اگر سن اُنیس سو باون کے پہلے عام انتخابات کے ووٹرز کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو موجودہ تعداد اُس سے پچپن فی صد سے لے کر تریسٹھ فی صد زائد بنتی ہے۔ کُل پانچ سو تینتالیس نشستوں کے لئے انتخابی عمل کا انعقاد ہو گا۔

عام الیکشن میں بھارت کی مضبوط کمیونسٹ پارٹیوں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور سے مغربی بنگال میں عشروں سے دیہی آبادی کے کسانوں کی پسندیدہ جماعت کمیونسٹ پارٹی رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کو ووٹ اِس لئے دیتے رہے ہیں کہ اُس نے اُن کو کاشکاری کے لئے زمینیں دیں تھیں مگر اب یہی جماعت اُن زمینوں کو ہتھیانے کی کوششوں میں ہے۔ سن دو ہزار سات سے لے کر اب تک کمیونسٹ پارٹی کی صوبائی حکومت کے پیش کردہ صنعتی منصوبوں کے فروغ کی مخالفت میں پچاس کسانوں کو مظاہروں کے دوران ہلاک ہونا پڑا۔ اِس صورت حال کو کمیونسٹوں کی مخالف جماعتیں استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹ بینک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اِس بات کا امکان ہے کہ بھارتی صوبے مغربی بنگال میں بتیس سال بعد بائیں بازو کی جماعت کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔

جوں جوں الیکشن قریب ہیں توں توں عوامی اور سیاسی حلقے وزیر اعظم کے نام پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے لال کرشن ایڈوانی کا نام سامنے ہے۔ بھارت کی کانگریس پارٹی نے اپنے منشور کے اعلان کے وقت کہا گیا تھا کہ کامیابی کی صورت میں موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو اِس عہدے کے لئے برقرار رکھا جائے گا۔ کچھ کے خیال میں لوک جَن شکتی پارٹی کے صدر، دلت لیڈر رام ولاس پاسوان چھپے رستم ثابت ہو سکتے ہیں۔ سولہ مئی کے نتائج کے بعد ہی جوڑ توڑ کا عمل پوری قوت سے شروع ہوگا۔

دوسری طرف عالمی اقتصادی بحران کے تناظر میں انتخابی گہما گہمی سے بھارتی اقتصادیات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم پر سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے رقوم خرچ کر نے کی وجہ سے عبوری عرصے کے لئے کئی ہزار افراد کو روزگار فراہم حاصل ہوا ہے۔ اس اخراجات کی وجہ سے بھارتی معاشیات میں بھی حرکت ہو رہی ہے گو یہ بھی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ الیکشن کے بعد ایک بار پھر بھارتی اقتصادیات میں سست روی پیدا ہونے سے مجموعی شرح ترقی کے سکڑنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔