1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی اقتصادی ترقی: دلت، قبائلی اور مسلمان سب سے پیچھے

ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارت میں گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اقتصادی ترقی کے باوجود امیر اور غریب افراد کے درمیان خلیج وسیع ہوئی ہے۔ بے زمین کسانوں کی تعداد میں اضافہ جبکہ روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار ایکوٹی اسٹڈیز کی طرف سے جاری کردہ ’’انڈین ایکسکلوژن رپورٹ 2016‘‘ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے پچیس برسوں میں امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کو آزادی ملنے کے بعد سے ابتدائی چار دہائیوں کے مقابلے میں سن انیس سو نوے کے بعد تین گنا اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ اسی طرح سن دو ہزار کے بعد سے دس فیصد امیروں کی دولت میں بارہ گنا اضافہ ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ غریب دس فیصد افراد کی آمدنی محض تین فیصد بڑھ پائی ہے۔ اس کی اہم وجہ روزگار کے نئے مواقع پیدا نہ ہونا ہے۔ لیبر بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی حکومت میں 2015ء میں صرف ایک لاکھ پینتس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جو کہ کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومت کے مقابلے کم ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لحاظ سے بھارت، برازیل ، انڈونیشیا اور ارجنٹائن سے پیچھے ہے۔


رپورٹ کے مطابق سماج کے زیادہ بااثر طبقات کے مقابلے انتہائی پسماندہ سمجھے جانے والے دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے بڑے طبقے کو ترقی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا ہے۔ ان تینوں مذکورہ طبقات کی سرکاری مراعات اور اسکیموں تک رسائی بھی نسبتاً بہت کم رہی ہے۔
سینٹر فار ایکوٹی اسٹڈیزکے ڈائریکٹر معروف سماجی کارکن ہرش مندر نے آج بارہ مئی کو رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس رپورٹ میں بالخصوص چار حوالوں یعنی بزرگوں کے لئے پنشن، ڈیجیٹل رسائی، زرعی زمین اور زیر سماعت قیدیوں کے لئے قانونی انصاف کے تحت سرکاری اسکیموں یا خدمات کے حوالے سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ہرش مندر کا کہنا تھا کہ ’’مختلف پہلووں سے تجزیہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارت میں تاریخی طور پر محروم گروپ یعنی دلت، قبائلی ، مسلمان اور معذور افراد سب سے زیادہ بری طرح اور  مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘
یوں تو بھارت میں حکومتوں نے زرعی اصلاحات کے لئے متعدد پروگرام شروع کئے لیکن رپورٹ کے مطابق یہ اصلاحات صرف کاغذ تک ہی محدود ہیں۔ ان اصلاحات سے دلتوں، خواتین اور مسلمانوں کو کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اگر ان طبقات کے بے زمین افراد کو زمین الاٹ بھی کی گئی تو انہیں اس کا قبضہ نہیں دیا گیا اور اگر کسی طرح قبضہ لے لیا تو ڈرا دھمکا کر زمین خالی کروالی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بے زمین افراد کے لحاظ سے دلتوں کی تعداد سب سے زیادہ 57.3 فیصد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد 52.6 فیصد اور قبائلیوں کی تعداد 40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر دلتوں اور مسلمانوں کے پاس زمین ہے بھی تو ان کا رقبہ بہت کم ہے۔ نیز جو زمینیں ان کے پاس ہیں ان کا میعار نہایت خراب ہے اور 58% کو آب پاشی کی سہولت حاصل نہیں ہیں۔


زراعت کے حوالے سے ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2001ء سے 2011ء  کے درمیان تقریباً نو ملین کسانوں کو مختلف پریشانیوں کی وجہ سے زراعت کا پیشہ ترک کرنا پڑا اور انہیں ذریعہ معاش کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر شہروں کی طرف نقل مکانی کے لئے مجبور ہونا پڑا ۔ 1971ء  میں نقل مکانی کرنے والوں کی شرح 16.5 فیصد تھی جو 2011ء میں بڑھ کر 21.1  فیصد ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق زراعت کی خراب صورت حال کی وجہ سے 1994ء  سے 2014ء  کے درمیان تین لاکھ سے زائد کسانوں نے خود کشی کی۔
ڈیجیٹل انڈیا نریندر مودی حکومت کا ایک انتہائی اہم پروگرام ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے تحت مارچ 2014ء  تک ایک لاکھ دو سو پنچایتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن اپریل 2016ء  تک صرف اڑتالیس ہزار کے قریب پنچایتوں کا ہی احاطہ کیا جا سکا اور ان میں سے بھی صرف چھ ہزار کو ہی انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب تھیں۔ خراب انفرااسٹرکچر، ادارہ جاتی فریم ورک کی کمی، کم شرح خواندگی اور سرکاری اہلکاروں کے عدم تعاون کو ڈیجیٹل رسائی کو بہتر بنانے کی حکومت کی کوششوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے 40 فیصد بزرگوں کو سماجی سیکورٹی یا پنشن کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ دوسری طرف جیلوں میں قید افراد کی سب سے بڑی تعداد دلتوں اور مسلمانوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوکہ گلوبل ہُنگر انڈکس میں بھارت کا اسکور 2008ء  کے بعد سے بہتر ہو رہا ہے تاہم رینکنگ کے لحا ظ سے یہ اب بھی روانڈا، کمبوڈیا اور میانمار جیسے ملکوں سے پیچھے ہے۔
ڈاکٹر ہرش مندر کا کہنا ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ بھارت میں اقتصادی ترقی کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے لیکن غربت کے خاتمے کی منزل اب بھی کوسوں دور ہے۔