1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی ارب پتیوں کو فلاحی کاموں کی جانب مائل کرنے کی کوشش

دنیا کی دو امیر ترین شخصیات، امریکی شہریوں بل گیٹس اور وارن بفٹ نے مالدار بھارتیوں کو فلاحی کاموں پر اپنا سرمایہ خرچ کرنے کے لیے قائل کرنے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

default

اس ضمن میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ایک ہوٹل میں ارب پتی بھارتیوں کا ایک اجمتاع منعقد کیا گیا۔ 70 بھارتی تجارتی شخصیات سے کی گئی اس ملاقات میں بین الاقوامی سطح پر فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

بل گیٹس اور وارن بفٹ اس سے قبل گزشتہ سال ستمبر میں چین گئے تھے جہاں انہوں نے اسی طرز کی کوشش کی تھی۔

نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بل گیٹس نے کہا کہ انہوں نے یہاں لوگوں میں مثبت جذبہ اور توانائی دیکھی، ’’جن لوگوں سے ہم نے بات کی ان کی اکثریت نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ فلاحی کاموں سے متعلق کافی سوچ و بچار کیا جارہا ہے۔‘‘

Supermacht Indien Galerie

بھارت کے ایک پسماندہ علاقے کے بچے

بل گیٹس اور وارن بفٹ نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی نصف دولت اچھے مقاصد کے لیے وقف کر دیں گے اور ساتھ ہی دنیا بھر میں اپنی جیسی دیگر شخصیات کو بھی ایسا ہی کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ گیٹس پیشہ ورانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر مکمل طور پر اسی مقصد کے لیے سرگرم ہوچکے ہیں۔

اب تک 59 مالدار امریکی شہری ان کی تقلید کا اعلان کرچکے ہیں۔ گیٹس اور بفٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال بھارت میں فلاحی کاموں سے متعلق محض بحث کا آغاز کروانا چاہتے ہیں۔

گیٹس کے بقول، ’’ بھارت اور چین میں ہم نے لوگوں سے وعدے کرنے پر زورر نہیں دیا، نہ ہم نے چندہ جمع کیا، بھارتی سرمایہ دار فلاحی کاموں کے مبلغین کے طور پر نہیں بلکہ اس مقصد کو خوشگوار انداز میں بڑھاوا دینے والوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Mukesh Ambani

بھارت کے امیر ترین شہری مکیش امبانی اپنی اہلیہ نیتا کے ہمراہ

بفٹ کا کہنا تھا، ’’ یہاں لوگوں کے خیالات جاننے کے بعد مجھے یقین ہے کہ بھارت میں اگلی دہائی کے دوران فلاحی کاموں پر خرچ ہونے رقم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘‘

دنیا بھر کے سرمایہ داروں پر نظر رکھنے والے جریدے فوربس کے مطابق بھارت میں 55 ارب پتی شہری موجود ہیں۔ ان میں سے دو دنیا کے دس مالدار ترین شخصیات کی فہرست میں جگہ بناچکے ہیں۔ اس تناظر میں البتہ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر گزرتے دن کی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ بھارت میں مالدار اور غرباء کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM