1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی آرمی چیف کا بیان کیا عوام کو خوش کرنے کے لیے ہے؟

بھارتی آرمی چیف جنرل روات کے بیان کو پاکستان میں تجزیہ نگار ایک ایسی بھارتی کوشش قرار دے رہے ہیں، جس کے ذریعے نئی دہلی جنگجوانہ ذہنیت کو پروان چڑھا کر اپنی عوام کو خوش کرنا چاہتی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف چین جانے کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ افغانستان اور خطے کی صورتِ حال پر بات چیت کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات پر بھی تبادلہء خیال کریں گے۔

بھارتی فوج کے سربراہ بیپن روات نے اپنے تازہ بیان میں کہا، ’’دو محاذوں پر یعنی شمال میں چین کے ساتھ جبکہ مغرب میں پاکستان کے ساتھ جنگ کو خاراج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ چین نے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے ابھی تک سرکاری طور پر اس پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا۔


پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی بڑھتی جارہی ہے اور یہ بیان بھی اسی بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔’’میرے خیال میں یہ بیان صرف اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے دیا گیا ہے۔ چین کسی بھی صورت بھارت سے جنگ نہیں چاہتا۔ ابھی سرحدی علاقے میں کشیدگی کے پیشِ نظر بیجنگ نے بہت دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ اگر چین کو کشیدگی بڑھانی ہوتی یا اگر اس کا جنگ کا ارادہ ہوتا تو وہ کشیدگی کو بڑھاتا، کم نہیں کرتا۔ چین معاشی طور پر طاقت ور سے طاقت ور ترین ہونا چاہتا ہے اور اس لیے وہ جنگ کا نہیں سوچے گا کیونکہ اس سے بیجنگ کی معاشی ترقی کی رفتار بہت کم ہوجائے گی۔‘‘


انہوں نے مزید کہا کہ بھارت بھی کسی صورت جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔’’ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کی بھی یہ کوشش ہے کہ ان کا ملک زیادہ سے زیادہ ترقی کرے اور وہاں معاشی نمو تیزی سے ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کی صورت میں یہ تیزی کیسے آئے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے دورے کا تعلق بھارتی آرمی چیف کے بیان سے نہیں ہے۔’’ میر ے خیال میں برکس کے اعلامیے کے بعد پاکستان پر بڑا دباؤ ہے اور خواجہ آصف اسی حوالے سے بات چیت کریں گے۔ ان کے دورے کا مقصد امریکی صدر کے بیانات اور افغان امن عمل ہے۔‘‘

ٹرمپ کی افغان پالیسی، جنوبی ایشیا مزید غیر مستحکم ہو جائے گا؟

’’پاکستان اور بھارت مختلف ضرور ہیں، مگر ساتھ چل سکتے ہیں‘‘

کسی بھی خطرے سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں، مودی
نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین بھی امان میمن کی اس رائے سے متفق ہیں کہ خطے میں کوئی جنگ ہونے نہیں جارہی۔ اس مسئلے پر رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’دنیا بھر میں فوجیں خارجہ پالیسی میں اپنی پسند کے نکات ڈلوانے کے لیے اس طرح کے بیانات دیتی ہیں۔ قومی امکان ہے کہ بھارتی فوج کے کچھ نکات کو بھارتی حکومت پالیسی کا حصے بنانے پر رضامند نا ہو تو اس طرح کے بیانات دے کر بھارتی آرمی چیف ان نکات کے حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس طرح کا قوم پرستانہ بیان دیا ہے۔‘‘


تجزیہ نگاراحسن رضا کے خیال میں بھارت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا اور نئی دہلی کے خیال میں چین اس کے سرحدی علاقوں میں اثر روسوخ بڑھا رہا ہے، جس سے بھارت کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔’’میرے خیال میں یہ وارننگ پاکستان کے لیے ہے کہ اگر چین اور بھارت کے درمیان کوئی تصادم ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد کو نئی دہلی صرف ایک تماشائی کے طور پر دیکھے گا بلکہ پاکستان سے بھی دو دو ہاتھ کرنے کی بھارت پوری کوشش کرے گا۔ اسی لیے بھارتی چیف نے پاکستان اور چین کو بالترتیب مغربی اورشمالی دشمن قرار دیا ہے۔ اس طرح کے بیانات ماضی میں بھی بھارتی آرمی کے عہدیدار دیتے رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ بند نہیں ہوا تو قومی امکان ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ باقاعدہ کوئی فوجی معاہدہ کر لیں۔‘‘
انہوں نے کہا حالیہ برسوں میں بھارت اور پاکستان نے سرحد پر کشیدگی ختم کرنے کے خواہش کا اظہار کیا اور چین اور بھارت نے بھی کشیدگی کو حالیہ دنوں میں ختم کیا۔’’تو میرے خیال میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوگی۔ تاہم کچھ چھڑپیں ان تینوں ممالک میں ہوسکتی ہیں، جو محدود ہوں گی۔‘‘

DW.COM