1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتیہ جنتا پارٹی بحران سے دوچار

بھارت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی حالیہ عام انتخابات میں شکست سے سنبھل نہیں پارہی ہے اور اس میں داخلی خلفشار روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے۔

default

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں میں اندرونی مسائل پر شدید اختلافات ہیں

ایسا لگتا ہے کہ محمد علی جناح کے حوالے سے جسونت سنگھ کی کتاب کی اشاعت کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر لاوا پھوٹ پڑا ہے‘ روزانہ کوئی نہ کوئی لیڈر بغاوت کا بگل بجادیتاہے اور پارٹی کی اعلی قیادت خود کو بے بس محسو س کرتی ہے۔

پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو پارٹی سے برطرف کرکے بی جی پی کی اعلی قیادت نے یہ سوچا تھا پارٹی کے نظریات سے اختلاف کرنے والے قابو میں آجائیں گے اور پارٹی میں ڈسپلن قائم ہوجائے گا، لیکن یہ خیال دوسرے روز ہی اس وقت چکنا چور ہوگیا جب بی جے پی کے نظریہ ساز اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کے ساتھ کام کرچکے سدھیندر کلکرنی نے پارٹی قیادت پر تنگ نظری کا الزام لگاتے ہوئے استعفی د ے دیا۔

Jaswant Singh

جسونت سنگھ کی محمد علی جناح پر کتاب نے پارٹی میں بحرانی کیفیت پیدا کردی ہے

کلکرنی لال کرشن اڈونی کی تقریریں لکھنے کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہے ہیں۔پارٹی کے سینئر رہنما ابھی اس جھٹکے سے ابرنے کی ترکیبیں سوچ ہی رہے تھے کہ ایک دوسرے نظریہ ساز ‘ سابق وزیر اور ممبر پارلیمان ارون شوری نے نیا دھماکہ کردیا۔ انہوں نے بی جے پی کو کٹی پتنگ قرار دیتے ہوئے پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ کی بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ"Alice in blunderland" ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں بار بار غلطیاں ہورہی ہیں۔

ارون شوری نے کہا کہ بی جے پی کے کسی بھی لیڈر کے اندر قیادت کی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے آر ایس ایس سے پارٹی کی کمان اپنے ہاتھوں میں لینے کی اپیل بھی کی۔ آرا یس ایس نے تاہم ارون شوری کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس کا رول صرف بی جے پی کو مشورہ دینا ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان نے کہاکہ اس کے کئی سویم سیوک بی جے پی میں کام کررہے ہیں اور اگر پارٹی نے ضرورت محسوس کی تو وہ سنگھ سے مشورہ لے سکتی ہے۔

خیال رہے کہ عام الیکشن میں شکست کے بعد سے ہی بی جے پی داخلی انتشار کا شکار ہوگئی ہے۔کئی اہم رہنما شکست کے لئے پارٹی کی اعلی قیادت کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ دوسری طرف راجستھان کی سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے سندھیا نے پارٹی کی شکست کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارٹی صدر کی ہدایت کے باوجود اسمبلی میں اپوزیشن لےڈر کے عہدے سے استعفی دینے سے انکار کردیا۔ جب کہ شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے بی جے پی کے سینئر رکن کرن رجوجو پارٹی چھوڑ کرکانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

بی جے پی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے تسلیم کیا کہ پارٹی ایک مشکل دور سے گذر رہی ہے تاہم امید ظاہر کی کہ وہ کامیاب ہوکر نکلے گی۔

خیال رہے کہ پارٹی سے برطرف کئے گئے لیڈر وں نے بی جے پی کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ خاص طور پر2002 ء گجرات کے مسلم کش فسادات اور 1999 ء قندھار ہائی جیک معاملے میں ان لیڈروں کے انکشافات سے بی جے پی اور بالخصوص لال کرشن اڈوانی کی خاصی سبکی ہورہی ہے۔ جسونت سنگھ اور ارون شوری دونوں نے ہی انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی گجرات کی وزیر اعلی نریندر مودی کو برطرف کرنا چاہ رہے تھے ۔ کیوں کہ گجرات فسادات سے انہیں کافی چوٹ پہنچی تھی۔ لیکن لال کرشن اڈوانی نے نریندر مودی کا دفاع کیا اور انہیں برطرف کرنے سے بچا لیا۔

جسونت سنگھ نے اڈوانی کے اس بیان کو بھی غلط قرار دیا کہ انہیں قندھار میں انڈین ایرلائنس کے طیارہ کو آزاد کرانے کی بدلے میں انتہاپسندوں کو رہا کئے جانے کا کوئی علم نہیں تھا۔ جسونت سنگھ نے کہاکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر داخلہ کے دستخط کے بغیرکسی انتہاپسند کو رہا کردیا جائے۔

دریں اثنا جمعہ کو پاکستانی دارالحکومت کے اسلام آباد کلب میں جسونت سنگھ کی کتاب کو پاکستان میں لانچ کیا جائے گا ۔ یہاں کتاب کے پبلیشر کے مطابق جسونت سنگھ بھی اس پروگرام میں شرکت کریں گی۔

رپورٹ: افتخار گیلانی

ادارت: عدنان اسحاق