1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بگٹی کی تیسری برسی، بلوچستان میں پرتشد واقعات

پاکستان کے قوم پرست سیاستدان نواب اکبر بگٹی کی آج تیسری برسی منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر صوبہء بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کی طرف سے سوگ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

default

بلوچ قوپ پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی آج تیسری برسی ہے

بلوچستان کے سابق وزیر اعلٰی نواب اکبر بگٹی کو آج سے تین سال پہلے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں ان کے آبائی گاؤں ڈیرہ بگٹی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان سے نواب اکبر بگٹی کا تنازعہ بلوچستان میں تیل اور گیس کے ذخائر سے ہونے والی آمدنی کی حصہ داری پر شروع ہوا تھا۔

نواب اکبر بگٹی کی تیسری برسی کے موقع پر بلوچستان میں متعدد پرتشّدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان کے پولیس آفیسر شاہد ناظم کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مختلف جھڑپوں کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کوئٹہ میں دیسی ساختہ بم دھماکوں کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے۔

Unruhen in Pakistan nach Tod von Bugti

بگٹی کی برسی پر بلوچستان میں سوگ، ہڑتال اور پرتشدد واقعات رونما ہوئے

کوئٹہ سمیت صوبے کے ایک اور علاقے سردار کاریز میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں دوعسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے سردار کاریز میں فرنٹیئر کونسٹبلری کے کمانڈر کرنل شہزادہ اپنی پارٹی کے ہمراہ گشت پر تھے کہ گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کا سلسلہ پندرہ منٹ تک جاری رہا۔ ایف سی کی جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ باقی مسلح افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے دو رائفلز، ایک راکٹ لانچر، دو بارودی سرنگیں اور دو میزائل برآمد ہوئے۔

دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں سات دھماکے ہوئے، جس سے دو گیس پائپ لائنز کو نقصان پہنچا۔ کوہلو میں تین راکٹ فائر کئے گئے جبکہ مستونگ میں نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا۔ کوئٹہ میں سریاب روڈ پر واقع ایک پٹرول پمپ پر دستی بم پھینکا گیا جس سے چار افراد زخمی ہوگئے۔

مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے ان پرتشدد واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: گوہر گیلانی