1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بگٹی قتل کیس: مشرف کی بریت ’ناانصافی پر مبنی اور ایک مذاق‘

سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے سن 2006ء میں بلوچ باغی رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمے میں بری ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے تاہم بگٹی فیملی کے وکیل نے اس فیصلے کو ’ناانصافی پر مبنی اور ایک مذاق‘ قرار دیا ہے۔

Pakistan Pervez Musharraf

پرویز مشرف کے ایک ترجمان کے مطابق سابق صدر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو گا

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے کوئٹہ سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو اس مقدمے میں بری کیے جانے کا فیصلہ ایک پاکستانی عدالت نے پیر کے روز کوئٹہ میں سنایا۔ یہ مقدمہ اُن تین مقدمات میں سے ایک تھا، جن کا مشرف کو جلا وطنی سے لوٹنے کے بعد سے سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

مشرف کے خلاف قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں فردِ جرم 2015ء میں عائد کی گئی تھی جبکہ دیگر دو مقدمات کا تعلق 2007ء میں سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل اور ملک سے غداری سے ہے۔

مشرف کے ایک ترجمان نے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ سابق فوجی حکمران کو اس فیصلے پر بہت خوشی ہوئی ہے اور یہ کہ اُن کے خیال میں یہ فیصلہ ’عدلیہ پر عوام کے اعتبار کو بحال کرے گا‘۔ سابق صدر مشرف دیگر مقدمات میں بھی بری کیے جانے کی امید کر رہے ہیں، جنہیں مشرف کے ترجمان نے ’غلط اور سیاسی محرکات پر مبنی‘ قرار دیا۔

Nawab Akbar Khan Bugti

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی 2006ء میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے

نواب اکبر بگٹی 2006ء میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد نہ صرف ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے بلکہ معدنیات سے مالا مال لیکن انتہائی پسماندہ صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے رجحانات بھی زور پکڑ گئے تھے۔

اس مقدمے میں سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ بھی نامزد تھے۔ انہوں نے پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا:’’عدالت نے سابق حکمران پرویز مشرف اور اس مقدمے میں نامزد دیگر تمام ملزمان کے خلاف تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔‘‘

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے اس فیصلے کی دونوں فریقین کے وکلاء نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ بگٹی فیملی کے وکیل سہیل راجپوت نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناانصافی پر مبنی اور ایک مذاق‘ ہے اور یہ کہ اس کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

مشرف نے 1999ء میں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر عنانِ حکومت سنبھالی تھی۔ 2008ء میں، جب انہیں مواخذے کا سامنا ہوا تو اُنہوں نے بطور صدر اپنے عہدے سے استعفےٰ دے دیا اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتےہوئے دبئی منتقل ہو گئے۔ 2013ء میں وہ عام انتخابات میں شرکت کے لیے وطن واپس پہنچے تاہم انہیں انتخابات میں شرکت سے روک دیا گیا۔ تب سے وہ کراچی میں نظر بند رہتے ہوئے مختلف قسم کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کار یہ کہتے رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت مشرف کو سزا دلوانے کے لیے زور دینے اور اس طرح پاکستان کی طاقتور فوج کو ناراض کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

DW.COM