1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بڑے فلیٹ اسکرین ٹیلی وژن کی فروخت میں کمی

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں یورو کے بحران کی وجہ سے بہت سے صارفین نے بہت مہنگی اشیائے صرف کی خریداری کی بجائے اپنی رقوم بچانے کی سوچ اپنا رکھی ہے۔

default

اکثر یورپی ملکوں اور امریکہ تک میں صارفین بڑے بڑے فلیٹ اسکرین ٹیلی وژن خریدنے کی بجائے اب اپنی رقوم بچانے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان میں ملکی کرنسی ین کی قدر میں بہت زیادہ اضافہ بھی Sony جیسے بہت بڑے صنعتی ادارے کے لیے مالی مسائل کا باعث بنا ہوا ہے۔

جاپانی کمپنی سونی کو پیداواری اور تجارتی خسارے کا بھی سامنا ہے۔ اسی لیے سونی نے ایک اور بہت بڑی کمپنی Samsung کے ساتھ مل کر LCD ٹیلی وژن تیار کرنے کا اپنا مشترکہ پیداواری منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

Elektronik-Messe CES - Panasonic zeigt größten Fernseher der Welt

یوں فلیٹ اسکرین، ایل سی ڈی ٹیلی وژن کی تیاری کی عالمی مارکیٹ میں پہلے اور تیسرے نمبر کے سب سے بڑے پیداواری ادارے اپنے اپنے راستے الگ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

جنوبی کوریا کی کمپنی سام سُنگ دنیا بھر میں ایل سی ڈی ٹیلی وژن بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے، جس کا عالمی منڈی میں حصہ 22 فیصد کے قریب بنتا ہے۔ دوسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہی کی ایک اور کمپنی LG کا نام آتا ہے جبکہ فلیٹ اسکرین ٹیلی وژن کی پروڈکشن میں عالمی منڈی میں اپنے 11.4 فیصد حصے کے ساتھ جاپان کی سونی کمپنی تیسرے نمبر پر ہے۔ اسی شعبے میں Panasonic دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ور Sharp پانچواں سب سے بڑا ادارہ ہے۔

Funkausstellung in Berlin, Fernseher

ان سب پیداواری کمپنیوں کی کاروباری مشکلات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا خاص کر یورپ اور امریکہ تک میں عام صارفین نے اب نئے فلیٹ اسکرین ٹیلی وژن خریدنا بہت ہی کم کر دیے ہیں۔

سام سُنگ اور سونی نے ایسے ٹی وی سیٹ تیار کرنے کا جو مشترکہ پیداواری منصوبہ شروع کر رکھا تھا، اس میں اب سام سُنگ کا ادارہ سونی سے اس کے سارے شیئرز خرید لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے لیے یہ جنوبی کوریائی کمپنی جاپان کی سونی کو 730 ملین یورو ادا کرنے کی پیشکش کر چکی ہے۔

اب تک کے پروگرام کے تحت سونی کمپنی اب سام سُنگ کے ساتھ مل کر LCD ٹی وی پینل تیار نہیں کرے گی بلکہ سام سُنگ خود ایسے ٹی وی بنا کر سونی کو بیچا کرے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM