1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بڑے شہروں کے سسبب ماحولیاتی آلودگی: نئی تحقیق

بین الاقوامی سطح پر ایک عام تاثر یہ ہے کہ دنیا کے بہت زیادہ آبادی والے بڑے بڑے شہر اکثر بہت زیادہ موحولیاتی آلودگی کی وجہ بنتے ہیں۔ تاہم اب امریکہ میں کی گئی ایک تازہ تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔

default

اس تازہ ماحولیاتی مطالعے کے ابھی حال ہی میں جاری کردہ نتائج کے مطابق نیو یارک، لندن اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں میں فی کس بنیادوں پر ان نقصان دہ مادوں سے کہیں کم مقدار میں ماحول دشمن گیسیں خارج کی جاتی ہیں، جو مثال کے طور پر امریکی شہر ڈینور یا ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں دیکھنے میں آتی ہیں۔

اس مطالعے کے دوران ماہرین نے 33 ملکوں میں 100 سے زائد شہروں سے متعلق ماحولیاتی ڈیٹا کا اس نقطہ نظر سے تجزیہ کیا کہ ایسے شہروں میں سے کونسے شہر سب سے زیادہ فی کس آلودگی کا سبب بنتے ہیں اور کیوں؟

AFED Umweltkonferenz in Beirut Libanon

اس تحقیقی مطالعے کے Environment and Urbanization نامی جریدے میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق یہ بات تو مسلمہ ہے کہ آج دنیا بھر میں جتنی بھی سبز مکانی گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں، ان میں سے 71 فیصد کے ذمہ دار شہری علاقے اور ان کے رہائشی ہیں۔

ایسے شہروں میں اُن شہریوں کا کردار قدرے ماحول دوست ثابت ہوا، جو ذاتی طور پر اپنی گاڑیاں استعمال تو کر سکتے ہیں مگر سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے وہ عوامی ذرائع آمد و رفت کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔

AFED Umweltkonferenz in Beirut Libanon

ماحولیاتی آلودگی کی وجہ بننے میں بہت بڑے بڑے شہروں کے باسیوں کے مقابلے میں چھوٹے شہروں کے رہائشی کس طرح زیادہ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکی شہر ڈینور میں، جو اپنی آبادی کے لحاظ سے کافی بڑا ہے، ایک عام شہری اوسطاﹰ اس سے قریب دوگنا مقدار میں سبز مکانی گیسوں کے فضا میں اخراج کی وجہ بنتا ہے، جس کا سبب نیو یارک کا رہنے والا ایک عام شہری ہوتا ہے۔ ڈینور کی آبادی اگرچہ کافی زیادہ ہے مگر آٹھ ملین کی آبادی والے وسیع تر نیو یارک سے اس کا کسی بھی صورت مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس مطالعے کے نتائج کے مطابق، نیو یارک شہر کا رقبہ تو بہت زیادہ ہے مگر وہاں زیر زمین ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام اتنا بہتر ہے کہ عام شہری کسی بھی جگہ آمد و رفت کے لیے صرف اپنی گاڑی استعمال کرنے پر مجبور نہیں ہوتا۔

اس تحقیق سے یہ پتہ بھی چلا کہ ڈینور کے امریکی شہر میں ایک عام شہری اوسطا 21.5 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے فضا میں اخراج کی وجہ بنتا ہے۔ یہ شرح اس زہریلی گیس کے اخراج کی چینی شہر شنگھائی میں ریکارڈ کی گئی 11.2 ٹن کی فی کس شرح سے بہت زیادہ ہے۔ پیرس میں یہی فی کس شرح 5.2 ٹن اور ایتھنز میں10.4 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے۔

اس ریسرچ سے یہ پتہ بھی چلا کہ کینیڈا کے شہریوں کے مقابلے میں جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کے شہری زہریلی گیسوں کے فضا میں اخراج کے حوالے سے قریب چھ گنا زیادہ حد تک ماحول دوست ہیں، جو اپنی روزمرہ زندگی میں ماحولیاتی حوالے سے بہت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

رپورٹ: عصت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس