1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بڑی سفارتی فتح: اقوام متحدہ کی عمارت پر اب فلسطینی پرچم بھی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نیو یارک میں اس عالمی ادارے کی مرکزی عمارت پر دیگر رکن ملکوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی پرچم لہرانے کی بھی اکثریتی رائے سے منظوری دے دی ہے۔ اسے فلسطینیوں کی ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی شہر نیو یارک میں عالمی ادارے کے صدر دفاتر سے جمعہ گیارہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی نے یہ منظوری مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی رات ہونے والی رائے شماری میں دی۔ جنرل اسمبلی میں اس قرارداد پر رائے شماری میں 119 ملکوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 45 ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اے ایف پی کے مطابق اس قرارداد کی مخالفت میں صرف آٹھ ووٹ ڈالے گئے جن میں سے ایک فلسطینیوں کے ساتھ عشروں سے جاری تنازعے کے فریق ملک اسرائیل کا تھا اور ایک ووٹ امریکا کا بھی، جو پوری دنیا میں اسرائیل کا سب سے بڑا‍ حلیف ملک ہے۔

DW.COM

اس قرارداد کے منظور کیے جانے کو فلسطینی خود مختار انتظامیہ کی قیادت میں فلسطینیوں کی اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کی طویل جدوجہد میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی اس قرارداد کے مسودے کے مطابق اب فلسطین اور ویٹی کن سٹی، جسے Holy See بھی کہا جاتا ہے، کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ ان کے جھنڈے بھی عالمی ادارے کے ہیڈ کوارٹرز پر دیگر رکن ملکوں کے پرچموں کے ساتھ لہرائے جا سکیں گے حالانکہ فلسطین اور ویٹی کن سٹی دونوں ہی اقوام متحدہ کے مکمل رکن ممالک نہیں بلکہ انہیں مبصر رکن ملکوں کی حیثیت حاصل ہے۔

بیس دن کا وقت

اس فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کے پاس اس پر عملدرآمد کے لیے بیس دن کا وقت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ عالمی ادارے کی عمارت پر فلسطینی پرچم ممکنہ طور پر ٹھیک بیس دن بعد اس وقت لہرایا جا سکتا ہے جبکہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس تیس ستمبر کو اقوام متحدہ کا دورہ کریں گے۔

قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کہا، ’’یہ ایک علامتی فیصلہ ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر فلسطینی ریاست کے ستونوں کو مضبوط کرنے کی طرف ایک اور بہت اہم قدم۔‘‘ اسی طرح اس فیصلے کے بعد پیرس میں موجود فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ نے کہا کہ یہ کامیابی فلسطین کو اقوام متحدہ کا ایک مکمل رکن ملک بنانے کی منزل کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے۔

یورپی ملک تقسیم

اس قرارداد پر رائے شماری کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس بارے میں یورپی ملک تقسیم کا شکار رہے۔ فرانس، روس اور سویڈن نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ برطانیہ، جرمنی، آسٹریا، فن لینڈ، ہالینڈ اور قبرص نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔ ویٹو طاقتوں میں سے اس قرارداد کی چین نے بھی حمایت کی۔

فلسطینی خود مختار انتظامیہ کی قیادت میں فلسطینیوں کو اسرائیل اور امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود ’غیر رکن مبصر ملک‘ کی حیثیت 2012ء میں 29 نومبر کو ملی تھی اور تب جنرل اسمبلی میں 138 رکن ملکوں نے اس کی حمایت اور نو ریاستوں نے مخالفت کی تھی جبکہ 41 رکن ملکوں نے اپنی رائے محفوط رکھی تھی۔

Mahmud Abbas

اس قرارداد کے منظور کیے جانے کو فلسطینی خود مختار انتظامیہ کی قیادت میں فلسطینیوں کی اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کی طویل جدوجہد میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے

امریکی اور اسرائیلی تنقید

جمعرات کی رات اس قرارداد کی منظوری کے بعد عالمی ادارے میں امریکی خاتون سفیر سمانتھا پاور نے کہا، ’’جھنڈا لہرانا نہ تو مذاکرات کا کوئی نعم البدل ہے اور نہ ہی اس طرح اسرائیل اور فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکتا ہے۔‘‘

اسی طرح اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر رَون پروسَور نے الزام لگایا، ’’فلسطینی اقوام متحدہ میں سیاسی پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے سنکی طریقے سے چالبازی کر رہے ہیں۔‘‘ اسرائیلی سفیر نے مزید کہا، ’’کسی بھی طرح کی ووٹنگ ایک خالی علامتی فیصلے کو ایک ریاست میں نہیں بدل سکتی۔‘‘