1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بڑھتے ہوئے چین افریقہ روابط : کاروبار کاروبار ہے اور سیاست سیاست

چینی صدر ہُو ژِن تاﺅ اپنا افریقی براعظم کا دورہ پورا کرچکے ہیں جو تین سال قبل صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے لے کر اب تک کا ان کا افریقہ کا دوسرا دورہ تھا۔ اس دورے کے دوران بھی چینی سربراہ مملکت کی ترجیحات کا محور معیشی اور کاروباری رابطے تھے۔ ڈوئچے ویلے کی نامہ نگار Ute Schaeffer کا افریقہ کے بارے میں چینی سیاست پر تبصرہ

چینی صدر ہُو ژن تاﺅ کینیا میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کر رہے ہیں۔

چینی صدر ہُو ژن تاﺅ کینیا میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کر رہے ہیں۔

مراکش، نائیجیریا اور کینیا۔ چینی صدر کے دس روزہ دورے کا مقصد براعظم افریقہ میں چین کے مفادات کو اور آگے تک بڑھانا تھا۔ افریقہ میں زمبابوے سے لے کر مراکش تک چینی ادارے اور باشندے ہر ملک میں موجود ہیں اورگذشتہ دس برسوں میں افریقی ملکوں کی چین کے ساتھ تجارت میں دس گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ چین ایک سادہ سے اصول پر عمل پیرا ہے:کاروبار کاروبار ہے اور سیاست سیاست۔ اسی لئے بیجنگ افریقہ میں بھی اپنی مداخلت نہ کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔

یورپ اپنے سیاسی اور معیشی تعلقات میں افریقہ کے حوالے سے ابھی تک ایک گم گشتہ براعظم کے تصور سے جڑا ہوا ہے ۔ وہ پچھلے کئی عشروں میں افریقہ کے ساتھ کوئی قابل ذکر کاروباری روابط قائم نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس چین نے افریقہ کو سیاسی اور معیشی دونوںحوالوں سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

ظاہر ہے کہ عرب دنیا، خاص طور پر خلیج کے علاقے میں عدم استحکام کے باعث صرف چین ہی وہ ملک نہیں ہے جس نے مستقبل میں توانائی کے ذرائع کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا ہے۔ چین کے لئے افریقہ اس وجہ سے اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک کی توانائی کی ضروریات میں بڑی تیزی سے بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے ہاں تیل کی جملہ ضروریات کا ایک چوتھائی حصہ افریقی ریاستوں سے حاصل کرتا ہے۔

چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے اہم افریقی ملک انگولا ہے لیکن سوڈان میں تیل کی پیداوار کے دو تہائی حصے کی منزل بھی چین ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے حالیہ دورے کے دوران صدر ہُو ژِن تاﺅ نائیجیریا بھی اس لئے گئے کہ بیجنگ نائیجیریا سے اپنے ہاں تیل کی درآمدات کو مزید وسعت دینے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکہ اور یورپ معیشی امداد مہیا کرتے ہوئے اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے متعلقہ ملکوں میں جمہوریت اور اچھی حکومت کو لازمی تصور کرتے ہیں لیکن ایسے ملکوں کے بارے میں چین کا رویہ، جیسا کہ خود افریقی ریاستیں کہتی ہیں، بہت پیچیدہ نہیں ہوتا۔ چینی افریقی مکالمت میں انسانی حقوق کی صورت حال، پریس کی آزادی اور اخلاقی اقدار کو موضوع نہیں بنایا جاتا۔ اس طرز فکر کی وضاحت کرتے ہوئے بیجنگ میں حکومت کی طرف سے سفارتی لہجے میں کہا یہ جاتا ہے کہ چین اور افریقہ دوستی کے ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس پر کسی بھی طرح کا کوئی بھی موسم اثر انداز نہیں ہوتا۔

چین کی یہ سوچ اس کے اپنے مفاد میں ہے اور افریقہ کے لئے اس کے اثرات بہت دیرپا نہیں ہیں۔ چین کی ٹیکسٹائل مصنوعات افریقہ میں کپاس کی منڈیوں کو تباہ کرتی جا رہی ہیں۔ بیجنگ قرضے دیتے ہوئے یا سرمایہ کاری کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتا کہ کون سی حکومت انصاف پسند ہے اور کون سی نہیں۔ اس کے علاوہ چین اپنی اسلحے کی برآمدات کے ذریعے افریقہ میں مسلح تنازعات اور جنگوں میں بھی ایک خاص کردار ادا کررہا ہے۔ زمبابوے، چاڈ اور سوڈان ان دعووں کی محض چند ایک مثالیں ہیں۔

یورپ کی ترقیاتی سیاست اور اقدار کے لئے افریقہ کا یہ منظر نامہ خاصا تکلیف دہ ہے۔ اسی لئے یورپ کو اب افریقہ کو ایک غریب اور گم گشتہ براعظم نہیں سمجھنا چاہئے اور اپنی روایتی ترقیاتی سیاست میں جدت لانا چاہئے۔ افریقہ کے حوالے سے چین کی حکمتِ عملی اس وجہ سے بھی کامیاب ہے کہ مغربی دنیا کی افریقہ کے حوالے سے سرے سے کوئی حکمتِ عملی ہے ہی نہیں۔