1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سد باب : سود میں اضافہ

بھارت کے مرکزی بینک نے سود کی شرح میں ایک چوتھائی فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانا ہے۔

default

ممبئی میں قائم ریزرو بینک آف انڈیا RBI

ساتھ ہی مرکزی بینک نے انتباہ کیا ہے کہ اگر اشیائے خورد و نوش کی ترسیل میں تیزی سے اضافہ نہ کیا گیا تو کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر چھائی مہنگائی مسلسل بڑھتی رہے گی۔

ریزرو بینک آف انڈیا RBI نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں لاتے ہوئے گزشتہ مارچ سے اب تک سود کی شرح میں سات مرتبہ اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس بینک کے اہلکاروں کے مطابق ایسا عالمی اقتصادی منڈی میں پائے جانے والے بحران کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اس ضمن میں پائے جانے والے بحران ہی کے نتیجے میں دنیا بھر میں اشیائے خورد و نوش سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس سے صارفین پر سخت دباؤ پڑا ہے۔

Indien Markt Gemüse

بھارت میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے

انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے RBI نے سود کی شرح میں تازہ ترین اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی مرکزی بینک کے مطابق وہ اندرون ملک اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے سبب پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے سود کی اس شرح میں آئندہ مہینوں میں مزید اضافے کا اعلان بھی کرے گا۔

دریں اثناء RBI کے گورنر دُووری سُباراؤ نے مہنگائی میں اضافے سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مرکزی بینک سود کی شرح میں 50 بنیادی پوائنٹس کی پالیسی جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔ قبل ازیں کئی ماہرین معاشیات نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ سن 2011 کے دوران RBI سود کی شرح میں 75 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے۔

بھارت میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں گزشتہ سال کے دوران بہت زیادہ بڑھی ہیں۔ سن 2010 میں دسمبر میں ایک ماہ قبل نومبر کے مقابلے میں قیمتوں میں اضافے کی شرح 7.48 سے بڑھ کر 8.43 تک پہنچ گئی تھی۔ بھارت میں خام مادوں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

Symbolbild Finanzkrise Griechenland

دنیا بھر میں پایا جانے والا اقتصادی بحران بہت سے ملکوں میں مہنگائی کا سبب بنا ہے

تاہم ملک کے مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، ویسے ہی مجموعی طور پر مہنگائی بڑھتے چلے جانے کے امکانات اب حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے بینک نے گزشتہ مالی سال کے اختتام پر مارچ میں ہی یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد سے بڑھ کر سات فیصد تک پہنچ جائے گی۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ دراصل عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نتیجہ ہے، جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں جس سطح پر پہنچ چکی ہیں، اس نے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس