1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچے کو 'لے اڑنے' والا غبارہ والدین کو لے ڈوبا

امریکہ میں ایک بچے کے ایک غبارے کے ساتھ اڑنے کی افواہ پھیلانے والے والدین کے لئے سزائے قید کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ باپ کو تین ماہ جبکہ ماں کو بیس دن کی سزائے قید کا سامنا کرنا ہوگا، جس کا اطلاق دس جنوری سے ہوگا۔

default

ڈینور کے نواحی علاقے فورٹ کولنس کی عدالت میں جج اسٹیفن شاپنسکی نے فیصلہ سنایا تو 'غبارے والے بچے' کے اڑتالیس سالہ والد رچرڈ ہین کا چہرہ ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا۔ ان کی پینتالیس سالہ اہلیہ مایومی ہین بیس دن کی سزا اپنے شوہر کی سزا ختم ہونے پر شروع کریں گی۔

ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا، 'یہ دھوکہ دہی اور ناجائر استعمال کا معاملہ ہے، ہینز کے بچوں اور ذرائع ابلاغ کا ناجائز استعمال، جبکہ عوام کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی گئی۔ یہ کھیل پیسہ بنانے کے لئے رچایا گیا۔'

رچرڈ ہین تیس دن قید رہیں گے جبکہ بقیہ ساٹھ روز، وہ دن میں تعمیراتی کام کریں گے جبکہ رات جیل میں ہی بسر کریں گے۔ ان کی اہلیہ ہفتہ وار دو دن جیل کاٹتے ہوئے بیس دن پورے کریں گی۔

6 jähriges Kind fliegt in HOT AIR BALOON

امدادی ٹیمیں اس غبارے کا پیچھا کرتی رہیں

استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اِس جوڑے کے لئے سزائے قید کا فیصلہ سنایا جائے تاکہ ذاتی مفاد کے لئے ایسی افواہیں پھیلانے کا ارادہ رکھنے والوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہین نے شہرت کے حصول کے لئے افرادی قوت اور پیسہ برباد کرایا۔ رچرڈ ہین قبل ازیں اپنے اس اقدام پر امدادی ٹیموں اور عوام سے معافی بھی مانگ چکے ہیں۔

کولوراڈو کے اس جوڑے نے پندرہ اکتوبر کو پولیس اور ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ان کا چھ سالہ بیٹا فیلکن گیس کے غبارے کے ساتھ اڑ گیا ہے۔ یہ خبر دُنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ کولوراڈو میں اس غبارے کو روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن شروع ہو گیا تھا، جس میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے۔ کولوراڈو ایئرپورٹ کی طرف جانے والی پروازوں کے رُوٹ بھی تبدیل کئے گئے۔ اس امدادی آپریشن کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ تاہم فیلکن کو بعدازاں گھر پر چھپا پایا گیا۔

اس جوڑے نے یہ خبر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پھیلائی، جس کا مقصد اپنے لئے ریئلٹی ٹی وی سیریز حاصل کرنا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM