1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بچے کو قتل کرنے والا افغان تارک وطن پولیس کی گولی سے ہلاک

وفاقی جرمن ریاست باویریا میں پناہ گزینوں کے ایک مرکز میں ایک افغان تارک وطن نے خنجر سے حملہ کر کے پانچ سالہ بچے کو قتل اور اس کی ماں کو زخمی کر دیا۔ بعد ازاں پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز جرمنی کے جنوب میں واقع شہر آرنشوانگ میں قائم پناہ گزینوں کے ایک مرکز میں پیش آیا۔ مقامی پولیس کے مطابق خنجر سے لیس ایک اکتالیس سالہ افغان تارک وطن نے روس سے تعلق رکھنے والی سینتالیس سالہ خاتون اور اس کے دو بچوں پر حملہ کر دیا۔

کولون: مہاجرین کی عارضی رہائش گاہیں خالی کرا لی گئیں

افغان شہری کے حملے سے روسی خاتون بھی زخمی ہوئی، اس کے پانچ سالہ بیٹے کو جان لیوا زخم آئے جب کہ اس کا بڑا بیٹا محفوظ رہا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے خنجر سے لیس افغان تارک وطن کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والا پانچ سالہ بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا جب کہ زخمی ہونے والی خاتون کو ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ تاہم اس روسی خاتون کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

اتوار چار جون کے روز مقامی پولیس کے ترجمان نے ڈی پی اے کو بتایا کہ پولیس افغان پناہ گزین کی جانب سے کیے گئے اس حملے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنی نظروں کے سامنے چھوٹے بھائی کا قتل اور ماں کو زخمی ہوتے دیکھنے والا بچہ بھی اس واقعے کے بعد شدید صدمے کی کیفیت میں ہے اور اس کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔

جرمنی سے مہاجرین کی ملک بدری کا نیا قانون ہے کیا؟

DW.COM