1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچے والدین کے مقابلے میں اساتذہ کے قریب ہوتے ہیں

نیوپیمپشائر یونیورسٹی کے محقیق نے دعویٰ کیا ہے کہ جب بچے کسی قسم کے تشدد یا جبر کا شکار ہوتے ہیں تو وہ عمومی طور پر اپنے والدین سے پہلے اپنے اساتذہ کو آگاہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

default

محقیقن کی یہ تازہ رپورٹ منگل کو یو ایس جرنل آرکائیوز آف پیڈیاٹرک اینڈ ایڈولوسینٹ میڈیسن میں شائع کی گئیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق طبی عملے اور پولیس اہلکاروں کو اپنے اوپر جنسی تشدد کی روداد سنانے میں بچوں کو بہت زیادہ عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ اس تناظر میں جنسی تشدد کے علاوہ ساتھی طالب علموں یا دوست و احباب کی جانب سے بیوقوف بنائے جانے کے واقعات کا ذکر بھی اساتذہ کے سامنے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

نیو ہیمپشائر یونیورسٹی کے محقیقن نے ساڑھے چار ہزار سے زائد امریکی بچوں کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ زیادہ کم عمر بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کی معاونت کی۔ محقیقن کا دعویٰ ہے کہ آج کل کے بچے ماضی کے مقابلے میں ان معاملات میں قدرے زیادہ پر اعتماد ہوگئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ آج سے دو دہائی قبل بچوں کے خلاف کئے گئے جرائم کا محض 25 فیصد رپورٹ کیا جاتا تھا جبکہ حال میں یہ نسبت 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ماضی کے مقابلے میں آج کا سماج زیادتی کے شکار بچوں سے متعلق زیادہ آگاہ ہے۔

Eltern

ایک خاندان کے افراد

1992ء میں کی گئی ایسی ہی ایک سابقہ تحقیق کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 10 تا 16 سال کے بچوں کے خلاف کئے گئے جرائم میں سے محض 25 فیصد کا پتہ چل پاتا تھا۔ اس تحقیق کے نگران یو این ایچ کرائمز اگینسٹ چلڈرن ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈیوڈ فنکیلہور تھے۔ ان کے مطابق بچوں کے خلاف کئے گئے جرائم کی خبر کا عام ہونا اس بات پر بھی منحصر ہے کہ جرم کس قدر سنگین ہے۔ محقیق کے مطابق جرم جتنا سنگین ہوگا اس کی خبر کے عام ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

تحقیق کے تفصیلی نکات کے مطابق دوست،احباب اور رشتہ داروں کی جانب سے بچوں پر جنسی تشدد کے 69 فیصد واقعات رپورٹ کئے گئے، گروہ کی جانب سے حملے کے 70 فیصد واقعات جبکہ اغوا کاری کے 73 فیصد واقعات رپورٹ کئے گئے۔ ان کے مقابلے میں ساتھیوں کی جانب سے بیوقوف بنائے جانے کے محض 50 فیصد واقعات حکام کو رپورٹ کئے گئے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس