1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بچے‘ خود کش بمبار فیکٹریوں کا ایندھن

افغانستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک میں دہشت گرد بچوں کو بھی خود کش بمبار بنانے میں مصروف ہیں۔ ان نو عمروں کو اغوا کرنے کے بعد دہشت گردی کے تربیتی مراکز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے نوجوانوں اور بچوں کے لیے بنائے جانے والے خصوصی مراکز کے بارے میں اکثر خبریں دیتے رہتے ہیں۔ وسطی ایشیا میں کافی عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں تو دہشت گردی کے ایسے کیمپوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہے۔ ماسکو میں افغان امور سے متعلق ایک ادارے کے ماہر اندریخ سیرینکو کہتے ہیں ’’شمالی افغان صوبے قندوز میں طالبان نے حملوں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم مرکز قائم کیا ہے۔ وہاں پر بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی خود کش بمبار بنایا جاتا ہے‘‘۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ چھ سے آٹھ سال کے بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح سڑکوں کے کنارے بارودی سرنگیں نصب کی جاتی ہیں۔

Afghanistan Kinder und Soldat

بچوں کو آسانی سے ہدف کی جانب بھیجا جا سکتا ہے اور لوگ ان پر شک بھی نہیں کرتے

اسی طرح طالبان کا ایک مرکز شمال مغربی شہر غور ماچ میں بھی موجود ہے۔ سیرینکو کے بقول ’’وہاں پر ملا قیوم نام کا ایک شخص ہے، جو دہشت گردی کا ایک معروف استاد ہے۔ یہاں پر موجود زیادہ تر بچے یا تو اغوا کر کے لائے جاتے ہیں یا پھر انہیں ان کے والدین سے ایک ہزار امریکی ڈالر تک میں خریدا گیا ہوتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس کے علاوہ شمالی صوبے سر پل میں بھی اسی قسم کا ایک مرکز ہے، جہاں دہشت گردی کی تربیت دینے والے زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

مالٹا میں ہنگامی صورتحال پر تحقیق کرنے والے ایک مرکز سے منسلک نتالی خاریٹونوف کہتی ہیں ’’دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بچوں کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ ان معصوموں کو آسانی سے ہدف کی جانب بھیجا جا سکتا ہے اور لوگ ان پر شک بھی نہیں کرتے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ دیگر خود کش بمباروں کے مقابلے میں زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ ’’ لیکن ان کے حملوں کا دائرہ محدود ہوتا ہے کیونکہ یہ کار بم حملہ یا اسی طرح کی بڑی کارروائیاں نہیں کر سکتے‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے تربیتی مراکز میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ نتالی خاریٹونوف کے مطابق ان میں کچھ بچے ایک لمبا عرصہ ایسے مراکز میں گزارتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پر اخراجات بھی بہت زیادہ آتے ہیں۔ ’’ میرے خیال میں ہلاک شدہ عسکریت پسندوں کے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو آگے بیچ دیا جاتا ہے‘‘۔