1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بچے اور معذور افراد خود کش کار بم حملوں کے ڈرائیور ہیں‘

ایک امریکی جنرل نے بتایا ہے کہ داعش اپنے خود کش کار بم حملوں میں بچوں اور معذور افراد کو استعمال کر رہی ہے۔ اس جہادی تنظیم کی جانب سے یہ حملے موصل میں عراقی فوج کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

امریکی ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیئر جنرل میٹ آئیلر نے عراقی دارالحکومت بغداد میں نیو ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موصل کی لڑائی میں جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ظالمانہ حکمت عملی انتہائی پریشان کن ہے۔ وہ میدان جنگ میں کامیابی کے لیے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

 آئیلر کے مطابق ان میں ایک یہ ہے کہ عراقی فوج پر ہونے والے کار بم حملوں میں بچوں اور معذور افراد کو سوار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔ امریکی جنرل کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب جہادی صفوں میں خودکش ڈرائیوروں کی شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق کار بم حملوں کے لیے کسی قریبی مقام سے گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کے بعد بچے یا کسی معذور افراد کے ہاتھ میں اسٹیئرنگ تھما دیا جاتا ہے۔ جنرل کے مطابق بارود سے لدی گاڑیوں پر بچوں اور معذور افراد کو زبردستی سوار کرنے کا عملی مشاہدہ اُن کے ایجنٹ کر چکے ہیں۔

Irak Kampf um Mossul Flüchtlinge (Reuters/Z. Bensemra)

چلتیی گولیوں اور پھٹتے ہوسے بموں سے موصل کے بچے شدید خوف زدہ ہیں

بریگیڈیئر جنرل میٹ آئیلر نے واضح کیا کہ بسا اوقات دیکھا گیا کہ گاڑی کا ڈرائیور گاڑی کو چلانے کے بعد اُس کا کنٹرول کسی بچے یا معذور فرد کے ہاتھ میں دے کر خود آرام سے اُتر کر قریبی کسی عمارت کے چھپ جاتا ہے تا کہ وہ خود بھی دھماکے کی تباہ کاری سے بچ سکے۔ جنرل کے مطابق ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے کمانڈ اور کنٹرول کے نگران بڑی شدت سے بچے اور معذور افراد کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ پیش قدمی کرتی عراقی فوج کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی فوج کے چیئرمین برائے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈَنفورڈ نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کے بعد بھی اِس جہادی تنظیم کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی عسکری مہم پینٹاگون کے نئے پلان کا حصہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی فوج کو ایک ماہ کے اندر اندر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو مکمل شکست دینے کے لیے فوجی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جنرل ڈَنفورڈ نے یہ بیان اس پلان کے مرتب کرنے کے لیے ہونے والی پینٹاگون کی ایک میٹنگ میں دیا۔ امریکی جنرل نے یہ بھی کہا کہ داعش صرف شام اور عراق کے لیے نہیں بلکہ سبھی خطوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔