1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا ملزم صنعا میں سرعام قتل

ایک تین سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کر دینے والے ایک شخص کو یمنی دارالحکومت صنعا میں سینکڑوں افراد کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

صنعا میں کسی مجرم کو سن 2009ء کے بعد پہلی مرتبہ اس طرح سرعام قتل کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے فوٹوگرافر اور سرعام سزائے موت کے عینی شاہد خالد عبداللہ کے مطابق، ’’اس شخص کو سزائے موت دینے کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، کیوں کہ خدشات تھے کہ مقتول بچی کا بنی مطار قبیلہ انتقامی کارروائی کر سکتا ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ پولیس وین کے ذریعے محمد المغرابی نامی اس 41 سالہ شخص کو صنعا کے تحریر چوک پر لایا گیا، جب کہ اس کے ساتھ پولیس کی پانچ دیگر گاڑیاں بھی تھیں۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ مجرم کے چوک پر پہنچنے پر وہاں موجود لوگوں نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کیے۔‘‘

Jemen Milizen entfernen Landminen platziert von Houthi-Rebellen (picture-alliance/dpa/STR)

یمن میں حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کے فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے

روئٹرز کے فوٹوگرافر عبداللہ کے مطابق، ’’اس مجرم کو چوک کے مرکز میں لایا گیا اور ہر جانب شور برپا ہو گیا۔‘‘

عبداللہ کا کہنا ہے، ’’اس مجرم نے سزائے موت دینے والے ایک پولیس افسر سے بات کرنے کی کوشش کی، جب کہ پولیس افسر اس موقع پر نہایت سکون کے ساتھ سگریٹ پی رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے کلاشنکوف کا منہ مجرم کی جانب کر دیا۔‘‘

عبداللہ نے مزید کہا کہ اس شخص کو ہلاک کر دیے جانے کے بعد وہاں موجود لوگوں نے کوشش کی کہ مجرم کی لاش تک پہنچیں، تاہم پولیس اس کی لاش وین میں ڈال کر ساتھ لے گئی۔‘‘

مقتول بچی کے والد یحییٰ المطاری نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس مجرم کی سزائے موت ان کے لیے باعث سکون تھی۔ ’’یہ میری زندگی کا پہلا دن ہے، جن میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔‘‘

خانہ جنگی کے شکار ملک یمن میں دارالحکومت صنعا پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے، جب کہ ملک کے متعدد دیگر حصوں میں حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کی فورسز آپس میں لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔