1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچہ پیدا ہوتے ہی اعدادوشمار بدل جائیں گے

عنقریب دنیا کی آبادی سات ارب ہونے والی ہے۔ یہ سات اربواں بچہ دنیا کے کس خطے میں جنم لے گا، اس بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔

default

ہو سکتا ہے کہ وہ حاملہ خاتون ایشیا ہی میں ہو، جس کے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی دنیا کی آبادی سات ارب ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق شعبے نے پیش گوئی کی ہےکہ یہ تاریخی بچہ31 اکتوبر کو پیدا ہو گا۔ سٹے بازوں کے مطابق یہ بچہ براعظم ایشیا میں پیدا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیا میں سورج دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت پہلے طلوع ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک کہتے ہیں تو ایک معقول شرط یہ بھی لگائی جا سکتی ہے کہ وہ بچہ آبادیاتی تبدیلی کا حصہ بنتے ہوئے کسی شہر میں زندگی بسر کرے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مطابق سن 2022 کے وسط تک ایشیا میں پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ وہاں کی نصف سے زائد آبادی دیہی علاقوں کی بجائے شہروں میں مقیم ہوگی۔

Grafik Familien mit Migrationshintergrund

دنیا کی آبادی میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے

حقیقت میں اقوام متحدہ کی طرف سے سات اربویں بچےکا اعزاز علامتی ہو گا۔ ہرگھنٹے ہزاروں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور اس اعزاز کے مستحق بچے تک رسائی حاصل کرنا شاید ناممکن ہو۔

قبل ازیں چھ اربویں بچےکا خیر مقدم اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نےکیا تھا۔ یہ بچہ 12اکتوبر 1999 کو بوسنیا میں پیدا ہوا تھا اور اب اس بچے کی عمر 11 برس ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایسا بچہ، جس کے آتے ہی دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہو جائے گی، کی پیدائش 15 جون سن 2025 کو متوقع ہے۔ دنیا کی آبادی میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا کی آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے نائب سربراہ تھوماس بُوٹنر کہتے ہیں، ’’اس وقت کی جو عالمی آبادی ہے، وہ دراصل اس شعبے میں ہونے والی ترقی اور آبادی میں اضافے پر قابو رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ورنہ دنیا کی آبادی موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی ۔ اگر 1950 ء سے فیملی پلاننگ پر عمل در آمد شروع نہ ہوتا اور اس سلسے کو کامیابی سے آگے نہ بڑھایا گیا ہوتا تو آج دنیا کی آبادی کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔‘‘

غریب ممالک، جن میں آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہاں کی صورتحال پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ ان معاشروں میں مستقبل میں بھی بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اگر دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس صدی کے اواخر تک خطہ ارض پر انسانوں کی کُل تعداد 27 بلین ہو جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ آبادی سے چار گنا زیادہ۔ محض افریقی ملک نائجیریا کی آبادی دو بلین سے تجاوز کر جائے گی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق