1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بچوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی وبا

ایشیائی ممالک میں بچوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب اس صورت حال کو ایک وبا تصور کیا جانے لگا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہر سال ایک سے سترہ سال تک کی درمیانی عُمر کے تقریباً 20 ہزار بچے ڈوب کرمرجاتے ہیں۔

default

ایک تازہ ترین تحقیقی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس بارے میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں آج سے ایک تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں ایک ایسی حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے بچوں اور نوجوانوں کی ڈوب کر رونما ہونے والی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

بنگلہ دیش میں قائم ’انٹرنیشنل ڈروننگ ریسرچ سینٹرIDRC-B کے ڈائریکٹر امین الرحمان کے بقول ایشیا میں ہر سال ساڑھے تین لاکھ بچے ڈوب کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ ان کا ادارہ دنیا کا پہلا ادارہ ہے جہاں ایسے معاشروں میں بچوں اور نوجوانوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کے خلاف بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ امین الرحمٰن کے مطابق ان علاقوں پر خاص فوکس ہے جہاں نچلے اور متوسط سماجی طبقے سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی اکثریت آباد ہے۔ امین الرحمان نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں کہا’ بچوں کے ڈوبنے کے واقعات ایشیا میں ایک چھپی ہوئی وبا ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں ایشیائی ملکوں میں ان واقعات کی تعداد تقریباً 20 گنا زیادہ ہے۔ یہ ایک نہایت افسوس ناک المیہ ہے کہ اس طرح بچوں اورنوجوانوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں‘۔

ڈھاکہ میں اس موضوع پر ہونے والی تین روزہ ورکشاپ میں ملیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، ڈنمارک، ویتنام، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے ماہرین صحت اور ’انجری پریونشن‘ کے شعبے سے منسلک افراد حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں، حکومتی اداروں اور ترقیاتی کاموں میں معاونت کرنے والے اداروں کے ترجمان بھی اس ورکشاپ میں شرکت کریں گے۔

Kinder in Bangladesch FLASH-Galerie

بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کا وہ ملک ہے جہاں سینکڑوں دریاؤں اور نہروں کا جال پھیلا ہوا ہے اور یہی ذریعہ ہے اس ملک میں انسانوں اور اشیاءِ صرف کی ترسیل کا۔ بنگلہ دیش میں تقریباً ہر سال سیلاب آتا ہے اور یہی اس ملک کی زراعت کے لئے سب سے بڑی نعمت بھی ہے۔ تاہم یہ سیلاب اس ملک میں سینکڑوں جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنتا ہے۔

IDRC-B‘ اور بنگلہ دیش کی متعدد سرکاری تنظیمیں ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعات سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کی کوششوں کو موثر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ امین الرحمان کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کو تیراکی کی تربیت دی جا رہی ہے تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ اس طرح کچھھ جانیں تو بچائی جا سکتی ہیں تاہم ضرورت کہیں زیادہ ٹھوس اقدامات کی ہے۔

IDRC-B دراصل ایک آسٹریلوی ایجنسی AusAid اور الائنس فار سیو چلڈرن اور آسٹریلیا ہی کی ’رائل لائف سیونگ سوسائٹی RLSSA کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حُسین

DW.COM