1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں کے محافظ بچوں کے اسمگلر بن گئے

بھارت میں بے سہارا بچوں کے حکومتی مرکز کے نگران اہلکار بچوں کی فروخت میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان سرکاری ملازمین پر بچے فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

گرفتار ہونے والے اہلکاروں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بارہ ہزار سے چوبیس ہزار امریکی ڈالرز کے عوض بچوں کی فروخت کی ہے۔ فروخت کیے گئے بچوں کے خریداروں کا تعلق یورپ، امریکا اور ایشیا کے کئی ملکوں سے بتایا گیا ہے۔ غیر ملکیوں کو فروخت کیے گئے بچوں کی عمریں چھ ماہ سے چودہ برس کی درمیان تھیں۔

بچوں کو گود لینے کے لیے غیر ملکی افراد مغربی بنگال کے پہاڑی مقام دارجلنگ کے بچوں کے مرکز ’بملا سیشو گرہہ‘ کی انتظامیہ سے رابطہ کرتی تھی۔ اس اسکینڈل میں بچوں کے اس مرکز کے دو مزید اہلکاروں کو ’چائلڈ اسمگلنگ‘ کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد کے نام مرینال گھوش اور دیباسیش چنڈا ہیں۔

ان اہلکاروں کو تفتیشی اہلکاروں کی ہدایت پر پولیس نے جمعہ تین مارچ کو حراست میں لیا ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے فوجداری تفتیش کے محکمے کے افسر نشاط پرویز نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں اہلکار ’ایڈاپشن اسکینڈل‘ میں اہم ہو سکتے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکینڈل کا دائرہ جوں جوں پھیل رہا ہے، توں توں سیاسی و سماجی شہرت کے حامل لوگوں کا نام سامنے آنے لگا ہے۔ نشاط پرویز کے مطابق اس اسکینڈل میں تین مزید افراد بھی شامل ہیں جو اب تک مفرور ہیں لیکن پولیس اُن کی تلاش میں چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

Indien Einspännige traditionelle Pferdekutschen in Mumbai (Bildergalerie) (I. Mukherjee/AFP/Getty Images)

بھارت تیس ملین یتیم بچوں کا ملک ہے

اس اسکینڈل میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد اب چھ ہو گئی ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک خاتون جوہی چوہدری کا تعلق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہے۔ وہ بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ مغربی بنگال کی فوجداری تفتیش کے محکمے کے سربراہ کے مطابق خاتون سیاستدان چوہدری کے ساتھ کئی دوسرے افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

’اڈاپشن سینٹر‘ کی حراست میں لی گئی سربراہ چندانا چکرورتی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ سیاسی رہنما جوہی چوہدری کئی برسوں سے بچوں کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہے۔ ان بچوں کو جعلی دستاویز کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جاتا تھا۔ پولیس نے دارجلنگ کے ’بملا سیشو گِرہہ‘ کی نگرانی گزشتہ برس جون میں شروع کی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ بھارت تیس ملین یتیم بچوں کا ملک ہے اور گود لینے کے انتہائی سخت قوانین کی موجودگی میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ یتیم بچوں کو کسی نہ کسی غیر قانونی طریقے سے غیرملکی افراد کے علاوہ اندرونِ ملک شہری بھی گود لیتے رہتے ہیں۔