1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ، آسٹریلیا کےکارڈینل سے تفتیش

آسٹریلیا کےکارڈینل جارج پیل سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت روم میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ اس کارڈینل پر الزامات ہیں کہ وہ 1970ء کی دہائی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملات میں ملوث رہے تھے۔

کارڈینل جارج پیل کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے تمام الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں بھی ان کی جانب سے ایسا ہی ایک بیان سامنے آیا تھا۔

کارڈینل جارج پیل سے، جو اب ویٹیکن میں خزانے کے امور کے سربراہ ہیں، آسٹریلوی ریاست وکٹوریا کی پولیس کے تفتیشی ماہرین نے گزشتہ ہفتے پوچھ تاچھ کی۔ وکٹوریا پولیس نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں اس کارڈینل سے کی جانے والی پوچھ گچھ کی تصدیق کر دی۔ ’’وکٹوریا پولیس کے تین اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے روم جا کر وہاں کارڈینل جارج پیل سے سوال جواب کیے، جنسی زیادتی سے متعلق الزامات کے حوالے سے تفتیش کے سلسلے میں کارڈینل جارج پیل نے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا۔‘‘

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’اس انٹرویو کے نتیجے میں مزید تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ہم مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔‘‘

دوسری جانب کارڈینل پیل کے دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’کارڈینل ان الزامات کے خاتمے تک پولیس کی تفتیش میں مکمل تعاون کرتے رہیں گے۔ کارڈینل پیل فی الحال اس سلسلے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔‘‘

Papst beim 23. Weltjugendtag in Australien (AP)

کارڈینل پیل اب ویٹیکن میں فرائض انجام دے رہے ہیں

جارج پیل پر الزامات ہیں کہ وہ سن 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ’نامناسب رویے‘ کے مرتکب ہوئے تھے جب کہ 1990ء کی دہائی میں آسٹریلوی شہر میلبورن میں سینٹ پیٹرزبرگ کیتھیڈرل میں آرچ بشپ کے طور پر بھی وہ وہاں ایک چرچ میں لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں مبینہ طور پر ملوث رہے۔

اس سال جولائی میں وکٹوریا پولیس نے پیل کے خلاف ان الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تفتیش آگے بڑھانے یا ختم کرنے سے متعلق معاملہ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

جولائی میں اسی حوالے سے پیل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا، ’’کارڈینل پیل خود بھی متاثرہ افراد کے لیے ذہنی تناؤ پیدا نہیں کرنا چاہتے، تاہم یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اپنی زندگی کے کسی بھی حصے میں کسی پر بھی جنسی حملے میں ملوث رہے ہیں، سراسر غلط اور بے بنیاد الزام ہے۔‘‘