1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ

انگلینڈ اور ویلز میں پرتشدد حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد ایک سال میں آٹھ فیصد بڑھ گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار حادثات اور ہنگامی حالات کے اشاریوں کے ایک سروے سے حاصل ہوئے ہیں۔

default

تاہم اس تحقیق میں شامل کارڈیف یونیورسٹی کے محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجموعی پر طور پر شدید نوعیت کے تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق 2009ء میں ساڑھے تین لاکھ افراد اس نوعیت کے حملوں میں زخمی ہوئے اور یہ تعداد 2008ء کے مقابلے میں ڈیڑھ ہزار کم ہے۔

اس کے برعکس پرتشدد واقعات کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 11سال سے کم عمر بچوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہزار ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ایسے واقعات سے متاثر 11 سے 17سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ 18سے 30 سال کی عمر کے متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی 27 فیصد اض‍افہ ہوا ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ کارڈیف یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے مرتب کی ہے، جو پرتشدد حملوں کے نتیجے میں شعبہ حادثابت میں پہنچنے والے افراد کی تعداد کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

ٹیم کے سربراہ پروفیسر جوناتھن شیفرڈ کا کہنا ہے کہ اس سالانہ تحقیق میں اب تک 2008ء کے اعدادوشمار ہی ایسے تھے، جن سے حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

اس تحقیق سے قطع نظر بعض ہسپتالوں نے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ بتایا ہے۔ رائل لندن ہسپتال کے ڈاکٹروں کا بھی یہی کہنا ہے۔ تاہم پروفیسر شیفرڈ کے مطاب بعض بڑے ہسپتالوں کو تحقیق سے الگ تو رکھا گیا ہے، لیکن اسے ترتیب دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اس سے انگلینڈ اور ویلز کے علاقوں میں پرتشدد واقعات کا سبب بننے والے رجحانات درست طور پر سامنے آ سکیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM