1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں کی ہلاکت پر معافی ناکافی ہے، حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے ملک میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے کہا ہےکہ نیٹو کی ایک فضائی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے نو افغان بچوں کے سلسلے میں مانگی گئی معافی ’کافی‘ نہیں۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں شہری ہلاکتوں کے واقعات کو ختم کرے۔ منگل کے دن افغان صوبے کنڑ میں نیٹو کی ایک فضائی کارروائی کے نتیجے میں یہ تازہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد افغانستان میں عوام میں غیر ملکی فوج کے خلاف غصہ نمایاں ہو گیا ہے۔

ان ہلاکتوں کے بعد نیٹو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فوجی دستوں کو غلط فہمی ہو گئی تھی۔ اس واقعے پر امریکی اعلیٰ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے علاوہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی بذات خود معذرت کی تھی۔

اگرچہ افغانستان میں نیٹو کی طرف سےکی جانے والی کارراوئیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر افغان عوام اور حکومت کی طرف سے سخت ردعمل ظاہر کیا جاتا رہا ہے لیکن اس تازہ واقعے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی مرتبہ اتنا سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

David Petraeus / USA / Afghanistan / NO-FLASH

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

اتوار کے دن منعقد ہوئی کابینہ کی ایک میٹنگ میں حامد کرزئی نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے مخاطب ہو کر کہا،’ میں چاہتا ہوں کہ آپ افغانستان میں شہریوں کو ہلاک کرنا بند کر دیں‘۔ کابینہ کی اس ملاقات میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس بھی شریک تھے۔

اس موقع پر افغان صدر نے کہا کہ شہری ہلاکتوں کے نتیجے میں افغانستان اور امریکہ کے تعلقات میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ کابینہ کی ملاقات کے بعد صدارتی دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا،’عوام تھک چکے ہیں۔ اس طرح کی معافیاں اورمذمتیں عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتیں ۔۔۔ بچوں کی ہلاکت پر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی معافی ناکافی ہے‘۔

اتوار کو افغانستان میں ان شہری ہلاکتوں کے خلاف عوامی مظاہرے بھی کیے گئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں کم ازکم پانچ سو افراد نے بچوں کی ہلاکت پر سوگ مناتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا۔

اتوار کے دن ہی مشرقی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے کے نتیجے میں بارہ شہری ہلاک ہو گئے۔ صوبہ پکتیکا کے حکام نے بتایا کہ اس حملے میں پانچ بچے، دو خواتین اور پانچ مرد شامل تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان باغیوں پر عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM