1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بچوں کی دو ٹانگیں ہوتی ہیں لیکن میری نہیں‘

شام میں جاری جنگ کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہونے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں شدید زخمیوں میں سے ہزاروں کے زخموں کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں مصنوعی بازوؤں یا ٹانگوں کی ضرورت ہے۔

 

امدادی تنظیم ریلیف انٹرنیشنل کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس تنظیم کے مطابق شدید زخمی افراد میں سے ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس تنظیم کا ایک مرکز جنوبی ترکی میں  شامی سرحد کے قریب قائم ہے۔ اس مرکز میں نغم نامی ایک نو سالہ بچی کا بھی علاج کیا جا رہا ہے۔ یہ معزور بچی بیساکھی کی مدد سے چلتی پھرتی ہے۔ حلب میں ایک فضائی کارروائی کے دوران اس کی بائیں ٹانگ ضائع ہو گئی اور اب اسے پیوند کاری کی ضرورت ہے۔

 نغم کہتی ہے، ’’میں بہت افسردہ ہوں، دیگر بچوں کی دو ٹانگیں ہیں لیکن میری نہیں۔‘‘ اس حملے میں نغم کے والد ہلاک ہو گئے تھے اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ ترکی ہجرت کر گئی اور تک سے وہ اس مرکز میں زیر علاج ہے۔ نغم کو پلاسٹک اور کاربن سے بنی ہوئی ایک مصنوعی ٹانگ  لگائی جائے گی۔ نغم بتاتی ہے،’’شروع میں مجھے بیساکھی کی مدد سے چلنے میں خوف محسوس ہوتا تھا لیکن اب مجھے کوئی ڈر نہیں۔‘‘  

ریلیف انٹرنیشنل نغم اور اس جیسے دیگر بچوں اور خواتین کے علاج معالجے میں ان کی مدد کر رہی ہے جبکہ مصنوعی اعضاء  کی بھی پیوند کاری کر رہی ہے۔ اس ادارے سے منسلک تھوماس ایونز کہتے ہیں، ’’ابتدا میں ہمارے پاس اتنے عطیات ہوتے تھے، جن کی مدد سے ہم ہر مہینے دس سے پندرہ زخمیوں کی مدد کر پاتے تھے۔ اب کچھ عرصے سے یورپی یونین اس منصوبے میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔‘‘ ان کے بقول یورپی یونین کے تعاون کے بعد سے ہر مہینے تیس سے زائد زخمیوں کو مصنوعی اعضاء فراہم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

یورپی یونین ابھی تک اس منصوبے کے لیے سات لاکھ یورو ادا کر چکا ہے۔ مصنوعی اعضاء کی جو فہرست تیار کی گئی ہے ، اس میں سات سو افراد کے نام ہیں۔  اس سلسلے میں ریلیف انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح سے یہ کام جاری رہا تو دو سال کے دوران تمام زخمیوں کو اعضاء فراہم کر دیے جائیں گے۔