1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں کی جبری فوجی بھرتی کے خلاف بین الاقوامی معاہدہ

مختلف مسلح تنازعات میں بچوں کی جبری فوجی بھرتی اور ان کے استعمال کے خلاف اقوام متحدہ کی زیر نگرانی طے پانے والے ملکوں کی تعداد سوتک پہنچ گئی ہے۔

default

اقوام متحدہ کے  اس معاہدے کا مقصد فوجی مقاصد کے لیے نابالغ یا کم عمر  افراد یا بچوں  کے جبری استعمال کو روکنا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے Paris Commitments کہلانے والے معاہدے پر پانچ مزید ملکوں نے دستخط کر دیے۔

اس پیش رفت کو فوجی مقصد کے لیے بچوں کے استعمال کے خلاف ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ اس طرح اس بین الاقوامی  دستاویز پر دستخط کرنے والے ملکوں کی تعداد اب 100 ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق  دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں فوجوں اور ملیشیا گروپوں میں اس وقت بھی لاکھوں بچوں کو زبردستی استعمال کیا جا رہا ہے؃

Flash-Galerie Bundeswehr in Afghanistan

اس بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس کے  دوران جن پانچ نئے ملکوں نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے، ان میں انگولا، آرمینیا، بوسنیا، کوسٹا ریکا اور سان مارینو شامل ہیں۔ یہ بات عالمی ادارے کے نیو یارک میں اس معاہدے سے متعلق ایک اجلاس میں بتائی گئی۔

فرانسیسی سفیر برائے انسانی حقوق Francois Zimeray نے کہا کہ نابالغ فوجیوں کے استعمال کے خلاف اس بین الاقوامی دستاویز کے لیے نئی حمایت  یہ ثابت کرتی ہے کہ اس ’ناقابل برداشت رجحان‘ کے خلاف عالمی برادری حرکت میں آ چکی ہے۔ اس فرانسیسی سفارت کار کے مطابق اب تنبیہات جاری کرنے کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہو گا کون سے اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں۔ فرانسوآ زیمیرے کے بقول اب انصاف کو یقینی بنانے کا وقت ہے۔

BdT Deutschland Aktion Rote Hand Guido Westerwelle und Wolfgang Niedecken

یہ بین الاقوامی دستاویز سن 2007 میں پیرس میں منظور کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایسے ضابطے طے کرنا تھا جن کی مدد سے نابالغ فوجیوں کی بھرتی کے عمل کو  روکا جا سکےاور  بچوں کو مسلح تنازعات سے متاثر ہونے سے بچایا جا سکے ۔

سن 2010 میں یونیسیف اور بچوں کی امداد کرنے والے دیگر اداروں کی مدد سے مسلح یا فوجی گروپوں میں استعمال ہونے والے یا اس سے تعلق رکھنے والے قریب دس ہزار بچوں کو ایسے حالات سے نکال کر دوبارہ ان کو معاشروں کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔

دنیا کے کئی ملک ماضی میں یا ابھی تک کم عمر بچوں کے فوجیوں کے طور پر استعمال کی وجہ سے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ ان میں  افغانستان، برونڈی، وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ، کولمبیا، ڈیموکریٹک ری پبلک کانگو، عراق، میانمار، نیپال، فلپائن، صومالیہ، سری لنکا، سوڈان اور یوگنڈا شامل ہیں۔

روس، چین اور پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ابھی تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ مسلح تنازعات میں بچوں کے استعمال کے خلاف اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب رادھیکا کماراسوامی کی ابھی تک یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نئے ملکوں کو اس بین الاقوامی معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عابد قریشی

 

DW.COM

ویب لنکس