1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں کی تصاویر فیس بک پر شائع نہ کریں، جرمن پولیس کا انتباہ

جرمن پولیس نے فیس بک پر اپنے بچوں کی تصاویر شائع کرنے والے صارفین کو فوری انتباہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عام شہری سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی تصاویر اس طرح شائع نہ کریں کہ انہیں ہر کوئی دیکھ سکتا ہو۔

جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ چودہ اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ اپیل سب سے زیادہ آبادی والے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ہاگن کی پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔

اپنی اس تنبیہ میں پولیس نے کہا ہے، ’’ہو سکتا ہے کہ عام والدین اپنے بچوں کی جو تصاویر بہت خوبصورت اور معصومیت کی مظہر سمجھ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، چند سال بعد یہی بچے اپنی ان تصویروں کو اپنے لیے بہت زیادہ شرمندگی اور پریشانی کا باعث سمجھیں۔‘‘

اپنی اس وارننگ کی وضاحت کرتے ہوئے ہاگن کی پولیس نے کہا ہے، ’’بچوں کے بھی ان کی نجی زندگی کو خفیہ رکھے جانے سے متعلق ذاتی حقوق ہوتے ہیں، جن کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ مستقبل میں کسی وقت ایسی تصاویر بچوں کو تشدد یا جنسی حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کے ہاتھ لگ جائیں اور وہ ان کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

ہاگن پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ تنبیہ جاری کیے جانے کے بعد، جب اس بارے میں منگل کے روز پہلی بار پولیس کا ایک تنبیہی پیغام فیس بک پر پوسٹ کیا گیا تھا، یہ پوسٹ آج بدھ کے دن تک کم از کم ایک لاکھ سے زائد مرتبہ شیئر کی جا چکی تھی اور اسے سات ملین سے زائد فیس بک صارفین دیکھ چکے تھے۔

پولیس کے ترجمان ٹینو شیفر نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس بتایا کہ اگر صارفین اپنے بچوں کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کرنا چاہیں بھی تو انہیں کم از کم یہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ فیس بک پر اپنی پرائیویسی سیٹنگز ایسی رکھیں کہ ان تصاویر کو محض اہل خانہ اور قریبی رشتے دار ہی دیکھ سکیں اور یہ تصاویر اجنبیوں کی نظروں سے محفوظ رہیں۔

DW.COM