1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بچوں کو کھڑکی سے باہر پھینکنے والے مہاجر کے خلاف عدالتی کارروائی

جرمنی میں آج اُس شامی مہاجر کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہو گئی، جس نے اپنی اہلیہ سے جھگڑنے کے بعد اپنے تین چھوٹے بچوں کو اپنی گھر کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا تھا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بون سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس شامی مہاجر کے خلاف اقدام قتل کے الزام کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

بون کی ایک عدالت میں شروع ہونے والے اس مقدمے میں ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے تین بچوں کو کھڑکی سے باہر پھینکا تھا۔

استغاثہ نے بتایا ہے کہ چھتیس سالہ شامی مہاجر نے یکم فروری کو اپنی اہلیہ کے ساتھ بحث کے بعد اپنی سات سالہ بیٹی، پانچ سالہ بیٹے اور ایک سال کے بچے کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا تھا۔

یوں بڑی بیٹی اور بیٹے کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں جبکہ ایک سالہ بچہ بڑے بیٹے کے اوپر گرا، جس کی وجہ سے اسے کوئی بڑی چوٹ نہ آئی۔ اس ایک سالہ بچے کی جنس کے بارے میں متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

یہ واقعہ بون کے نواحی علاقے لوہمار میں پیش آیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اس شامی مہاجر نے اپنے بچوں کو اس وقت کھڑکی سے باہر پھینکا، جب اس کی اہلیہ نے کہا کہ وہ مزید ایسا گھریلو کردار ادا نہیں کرے گی، جو شام میں خواتین ادا کیا کرتی ہیں۔ اس نے کہا تھا کہ وہ مزید وہ کچھ نہیں کرے گی، جو وہ اپنے شوہر کے حکم پر اپنے وطن شام میں کیا کرتی تھی۔

Deutschland Fest des Fastenbrechens Zuckerfest

جرمنی آنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق شام سے ہے

اس شامی مہاجر نے چار جنوری کو اپنی اہلیہ سے اسی بات پر جھگڑا کیا تھا اور مشتعل ہو کر اسے مارا پیٹا بھی تھا، جس کے بعد پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ملزم کو دس دنوں کے لیے اس کے گھر سے نکال دیا تھا۔

بعدازاں اس کی اہلیہ کی رضا مندی سے صلح کرا دی گئی تھی۔ یہ شامی مہاجر سن دو ہزار چودہ میں ترکی کے راستے جرمنی پہنچا تھا۔