1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بچوں کو صحت مند کھانا کیسے کھلایا جائے

ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق بچوں کے پسندیدہ کھانوں میں سبزیاں اس طرح شامل کی جانی چاہییں کہ وہ باریک کٹی ہوئی ہوں اور بچوں کو پتہ بھی نہ چلے۔ اس طرح بچے کھانا بھی زیادہ کھاتے ہیں اور صحت مند بھی رہتے ہیں۔

default

محققین نے پتہ چلایا ہے کہ اگر والدین بچوں کو ان کے پسندیدہ کھانوں، جیسے کہ نوڈلز وغیرہ میں سبزیاں باریک کاٹ کر شامل کریں، تو بچوں کی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے اور وہ کھانا بھی زیادہ کھاتے ہیں۔ اس ریسرچ کے مطابق اس طرح بچے غذائیت سے بھرپور سبزیوں والے کھانے بھی پسند کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کے جسموں کا حصہ بننے والی کیلوریز میں بھی خطرناک حد تک اضافہ نہیں ہوتا۔

جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں سے متعلقہ امور کے ماہر ڈاکٹروں کی تنظیم کی ترجمان مونیکا نیہاؤس کے مطابق یہ بات مشہور ہے کہ اگر  پھلوں کا سائز بڑا ہو، تو بچے وہ پھل شوق سے نہیں کھاتے۔ لیکن اگر یہی پھل کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیے جائیں، تو بچے انہیں زیادہ مقدار میں اور رغبت سے کھاتے ہیں۔ نیہاؤس کے مطابق اب ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے، جس کے ذریعے والدین اپنے کم عمر بچوں کی خوراک بہتر بناتے ہوئے انہیں صحت مند رکھ سکتے ہیں۔

Kindergarten Berlin Kreuzberg Multikulti Ausländer Flash-Galerie

یہ تحقیق چالیس کے قریب بچوں پر کی گئی، جن کی عمریں تین اور چھ سال کے درمیان تھیں

اس تحقیق کے مطابق بچوں کے سبزیوں والے کھانے میں کیلوریز پندرہ سے بیس تک کم ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق چالیس کے قریب بچوں پر کی گئی، جن کی عمریں تین اور چھ سال کے درمیان تھیں۔ جب ان بچوں کو سبزیوں ملا کھانا  دیا گیا، تو انہوں نے اتنی ہی مقدار میں کھایا، جتنا کہ وہ پہلے اپنا پسندیدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچوں کے پسندیدہ کھانوں میں باریک کٹی ہوئی سبزیاں شامل کرنے سے بچوں نے ایسے کھانوں کے ذائقوں میں بھی کوئی واضح تبدیلی محسوس نہ کی۔ یعنی بچوں کو زیادہ تر یہ پتہ ہی نہ چلا کہ ان کے کھانوں میں نئے اجزاء شامل کر دیے گئے تھے۔

مونیکا نیہاؤس کا کہنا ہے کہ بچوں کو صحت مند کھانا کھلانا ایک مشکل کام ہے۔ بچے ہمیشہ ہی میٹھی چیزیں مثلاﹰ ٹافیاں، گولیاں اور چاکلیٹ وغیرہ کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، جن سے ان کی خوراک میں کیلوریز کی تعداد میں تو بہت اضافہ ہو جاتا ہے لیکن بھوک میں کمی آ جاتی ہے۔  ’’یہ کوئی صحت مندانہ رجحان نہیں ہے۔ اسی طرح کھانوں میں بچوں کو چھپا کر سبزیاں کھلانے میں نہ تو کوئی مضائقہ ہے اور نہ ہی یہ کوئی بری بات ہے۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM