1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کے خطرناک اثرات

امریکہ میں ایک جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی بچوں میں ہڈیوں کی مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ دل کے عوارض کا بھی سبب بن سکتی ہے۔

default

یہ جائزہ Yeshiva یونیورسٹی کے البرٹ آئن شٹائن کالج آف میڈیسن کے محققین نے مرتب کیا ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی حد سے زیادہ کمی سے بچوں کی ہڈیاں غیر معمولی طور پر نرم ہو سکتی ہیں، ہڈیوں کی ساخت میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ دل کی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

Bunter spitzer Paprika

سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بچّوں میں وٹامنز کی کمی دورکرتا ہے

اِس جائزے سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ میں بہت سے بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ ہر دَس میں سے سات بچوں میں یہ کمی دیکھی گئی۔ اِس جائزے کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کے باعث کئی ملین بچے آگے چل کر ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشارِ خون یا دل کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

محققین نے اِس جائزے کے لئے ا یک تا اکیس سال کی عمر کے چھ ہزار سے زیادہ بچوں اور نوعمروں سے متعلق اعدادوشمار جمع کئے۔ اِن میں سے نو فیصد بچے اور نوجوان ایسے تھے، جن میں وٹامن ڈی کی کمی پائی گئی۔ گویا امریکہ میں 7,6ملین بچے اور نوجوان اِس وٹامن کی کمی کا شکار پائے گئے۔ اکسٹھ فیصد یا 50,8 ملین بچوں میں اِس وٹامن کی عمومی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اِس کمی کا شکار زیادہ تر لڑکیاں تھیں یا پھر بڑی عمر کے بچے اور نوعمر اور یا پھر وہ بچے تھے، جو دن میں چار گھنٹے سے زیادہ ٹیلی وژن دیکھتے تھے۔

یہ جائزہ پروفیسر مشال ایل میلامیڈ کی نگرانی میں مرتب کیا گیا ہے۔ پروفیسر میلامیڈ کے مطابق آج کل کے بچے اور نوعمر لڑکے لڑکیاں باہر گھومنے پھرنے کی بجائے زیادہ تر وقت گھر میں بیٹھے ہوئے گذارتے ہیں۔ ایسے میں اُن کے جسم کو سورج کی وہ مطلوبہ شعاعیں نہیں مل پاتیں، جو وٹامن ڈی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ پروفیسر میلامیڈ کے مطابق پندرہ تا بیس منٹ کی دھوپ بھی وٹامن ڈی پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے اور یہ کہ بچوں کو زیادہ مقدار میں دودھ اور مچھلی استعمال کرنی چاہیے۔