1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں میں موٹاپے کا انسداد، مشیل اوباما کی مہم

امریکی صدر باراک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما نے بچوں میں موٹاپے کے خلاف ملک گیر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ مسز اوباما کے مطابق امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بچہ موٹاپے کی بیماری کا شکار ہے۔

default

مشیل اوباما کی اس مہم کا مقصد والدین میں بچوں کے لئے غذا کے انتخاب اور بچوں کی خوراک میں موٹاپہ پیدا کرنے والے اجزاء کے خلاف عوامی شعور آگہی میں اضافہ کرنا ہے۔

Corn Flakes Rekord

اس مہم کے تحت بچوں کے لئے صحت مند خوراک کے حوالے سے آگہی میں اضافہ کیا جائے گا

مسز اوباما کے مطابق اس صورتحال میں امریکی مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کی اس مہم میں امریکہ میں ایک پوری نسل میں صحت کے معاملے میں مثبت تبدیلی کے لئے کوششوں کے آغاز کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

اس مہم کا نام ’’لیٹس موو‘‘ یا آگے بڑھو ہے۔ اس مہم کے تحت سکولوں میں کھائی جانے والی خوراک کے معیار میں بہتری اور صحت مند غذا کے استعمال کے جہتوں پر بیک وقت کام کیا جائے گا۔ مشیل اوباما نے منگل کے روز مہم کے آغاز پر اپنے ایک بیان میں زور دیا کہ یہ صرف ان کی تخلیق کردہ مہم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے لئے انہیں سیاستدانوں، فلم اور ٹی وی کے ستاروں اور کھلاڑیوں کا تعاون حاصل ہے۔

Schule in New Orleans Louisiana USA Benjamin E. Mays Preparatory School in New Orleans

مہم میں بچوں کے لئے کھیل کود جیسی سرگرمیوں میں اضافے پر بھی زور دیا گیا ہے

مشیل اوباما نے کہا کہ والدین، سکولوں اور مقامی حکومتوں کو بچوں کی غذا کے شعبہ میں بہتری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے والدین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، جو اپنے بچوں کو کھیل اور دوسری صحت مندانہ سرگرمیوں میں آگے بڑھاتے ہیں۔

منگل کے روز ایک امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں خاتون اول نے کہا : ’’ میں اپنے بچوں کو ہر طرح کے موقع دینا چاہتی ہوں، جن سے وہ اپنے کھیل کود میں ہر طرح سے آگے دکھائی دیں۔‘‘

صدر باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بجٹ پرپوزل میں بچوں کے لئے صحت مند خوراک کے فنڈ کے طور پر ایک بلین ڈالر تجویز کئے تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ میں بچوں میں موٹاپے میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم یہ بیماری اب بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت امریکہ میں زیادہ ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی