1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں سے زیادتی کا اسکینڈل، ایک اور معاشرتی ناسور کی نشاندہی

پاکستان میں بچوں کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ماہرین کے مطابق قصور جیسے واقعات پاکستان کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی ہو رہے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق بچوں کو جنسی طور پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کو رپورٹ نہ کیے جانے کے رجحان کی وجہ سے حکومت، اساتذہ اور والدین اس اہم ترین مسئلے کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے بچوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک ماہر ڈاکٹر عرفان احمد نے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کے حوالے سے حکومت کے پاس کوئی قابل اعتماد اعداد وشمار میسر نہیں ہیں، جبکہ بچوں کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں بچوں کو شدید جنسی مسائل کا سامنا ہے۔

DW.COM

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں 2013ء میں بچوں کے خلاف تین ہزار سے زائد مجرمانہ واقعات رپورٹ ہوئے، ان میں سے 1220 بچوں پر جنسی تشدد کیا گیا تھا۔ ان بچوں کی عمریں 15 سال سے بھی کم تھیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافے کے باوجود حکام نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کسی قسم کے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ اس رپورٹ میں ایک ڈاکومنٹری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بس اڈوں پر بچوں کے ساتھ غیر فطری جنسی اختلاط کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشان دہی کی گئی تھی۔

ڈاکٹر عرفان نے بتایا کہ قصور کے علاقے میں ہی کچھ عرصہ پہلے ایک 11 سالہ بچی کو ایک دُکاندار نے چند ٹافیوں کے عوض بہلا پھسلا کر اپنی ہوس کا نشانہ بنا دیا تھا، ’’میں ایک مرتبہ چکوال کے ایک گاؤں میں گیا، میرا انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا تھا، میں ایک نیٹ کیفے میں گیا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ صرف 10 روپے کے عوض بچوں کو نیٹ پر فحش مواد دکھایا جا رہا تھا، ایسی مثالیں ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایسے مواد تک بچوں کی آسان رسائی بھی جنسی تشدد کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے۔‘‘

ادھر پنجاب حکومت نے سانحہ قصور کے حوالے سے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے اتوار نو اگست کو قصور اسکینڈل کے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پنجاب میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے قصور کے اس واقعے کو پنجاب حکومت کے گُڈ گورننس کے دعووں پر ایک طمانچہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا کے گاؤں حسین خان والا کے رہائشیوں کی طرف سے گزشتہ ماہ پولیس کو مطلع کیا گیا تھا کہ اس علاقے میں ایک گروہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی وڈیوز بناتا ہے اور ان وڈیوز کو تلف کرنے کے لیے بعض بچوں کے والدین سے رقوم کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

Symbolbild Kindesmissbrauch

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران 284 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی 400 سے زائد ویڈیوز بنائی گئیں

بعض میڈیا رپورٹس میں اس واقعے کو پاکستان کی تاریخ میں بچوں سے جنسی زیادتی کا سب سے بڑا اسکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان واقعات میں گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران 284 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی 400 سے زائد وڈیوز بنائی گئیں۔

ڈی ڈبلیو کے رابطہ کرنے پر قصور کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسرعدنان ارشد اولکھ نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس میں بیان کیے گئے اعداد و شمار درست نہیں ہیں، ’’ابھی تک صرف آٹھ افراد نے پولیس کو شکایت درج کروائی ہے اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بعض نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔‘‘ ان کے بقول قصور کا یہ واقعہ دو با اثر گروپوں میں اراضی کے مسئلے پر پیدا ہونے والے جھگڑے کا شاخسانہ ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی دو درجن سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد چائلڈ رائٹس موومنٹ کے رہنما افتخار مبارک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب میں بچوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے اور پنجاب حکومت پچھلے کئی سالوں سے چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کے مسودے کی منظوری دینے میں ناکام رہی ہے۔