1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے ٹیچر کو پانچ سو سال سزائے قید

ترکی کی ایک عدالت نے دس نابالغ لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ایک استاد کو پانچ سو سال سے زائد مدت کی سزائے قید سنا دی ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والے طلبہ کارامان شہر میں اسلامی تنظیموں کے بورڈنگ ہومز کے رہائشی تھے۔

ترکی کے شہر کارامان سے بدھ بیس اپریل کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عدالت نے 54 سالہ ملزم کو دستیاب شواہد کی بنا پر مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 508 سال اور تین ماہ کی قید کا حکم سنایا ہے۔

یہ ملزم اسی ترک شہر میں کم از کم دو مختلف اسلامی تنظیموں کے قائم کردہ ان ہورڈنگ ہاؤسز کا نگران تھا، جہاں اس کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے نابالغ لڑکے رہائش پذیر تھے، حالانکہ اس شخص کی ذمے داری ان اور دیگر طلبہ کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانا تھا۔

ان دونوں بورڈنگ ہومز میں سے ایک ایک ایسی مذہبی تنظیم کا قائم کردہ ہے، جس کا تعلق ترکی میں حکمران جماعت سے بتایا جاتا ہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ مجرم نے بورڈنگ ہاؤسز کے جن 10 لڑکوں سے جنسی زیادتی کی، ان کی عمریں 10 اور 12 برس کے درمیان ہیں۔

روئٹرز کے مطابق اس مرد ٹیچر کے جرائم کے حوالے سے چند روز قبل سامنے آنے والی تفصیلات نے پورے ترکی کو سکتے کی سی کیفیت سے دوچار کر دیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت آج بدھ ہی کے روز شروع ہوئی تھی، جس کے اختتام پر عدالت نے اپنا فیصلہ بھی آج ہی سنا دیا۔ مقدمے کی کارروائی بند کمرے میں مکمل کی گئی۔

روئٹرز نے کارامان سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ اس مقدمے کی وجہ بننے والے مجرمانہ واقعات پورے ترکی میں عوامی اور سیاسی سطح پر شدید غم و غصے کے اظہار کا سبب بنے تھے۔

چونکہ ایک بورڈنگ ہاؤس چلانے والی مسلم مذہبی تنظیم کا تعلق انقرہ میں حکمران سیاسی جماعت سے بھی بتایا گیا تھا، اس لیے بہت سے سیکولر ترک باشندوں نے یہ الزامات بھی لگانے شروع کر دیے تھے کہ اس مقدمے میں حکومت متعلقہ مسلم مذہبی تنظیموں کے عدالتی دفاع کی کوششیں کرنے لگی تھی۔

اس بارے میں ترکی کی خاندانی امور کی خاتون وزیر سیما رمضان اولُو کے ایک حالیہ بیان کے خلاف کئی سماجی حلقوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ سیما رمضان اولُو نے کہا تھا کہ یہ جنسی حملے یا زیادتیاں ’اپنی نوعیت کا واحد واقعہ‘ تھے۔ خاتون وزیر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ سیاسی اپوزیشن جان بوجھ کر حکومت سے تعلق رکھنے والی ایک فاؤنڈیشن کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس بیان کے بعد اس ترک وزیر کے خلاف انقرہ کی قومی پارلیمان میں اپوزیشن کی طرف سے ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی تھی لیکن پارلیمانی ارکان کی کافی تائید نہ ملنے کی وجہ سے یہ قرارداد ناکام رہی تھی۔

اس پارلیمانی قرارداد میں اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ خاندانی امور کی وزیر سیما رمضان اولُو ملک میں خواتین اور بچوں پر تشدد اور ان سے کی جانے والی زیادتیوں کو روکنے کے سلسلے میں اپنے وزارتی فرائض میں غفلت کی مرتکب ہوئی تھیں۔

DW.COM