1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بچوں سے جنسی زیادتی کا معاملہ، پارلیمان میں زیر بحث

پیر کے روز قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ ملکی پارلیما ن میں بھی زیر بحث رہا۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ نے قصور واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر قصور کے ایک دیہات حسین والا میں سینکڑوں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا سیکنڈل منظر عام پر آنے کے بعد مذمت اور اس میں ملوث مجرموں کوکیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

پیر کے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا یہ واقع ملکی پارلیما ن میں بھی زیر بحث رہا۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ نے قصور واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔ جبکہ قومی اسمبلی میں قصور واقع پر بحث کے لیے تحریک التوا بھی پیش کی گئی۔

حزب اختلاف سے ہی تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے بھی پنجاب حکومت کے وزراء کے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن میں اس معاملے کو فریقین کے درمیان زمین کے کے تنازعے کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب کے وزرا ء کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیے جن سے زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں، ان کے اہل خانہ اور عوام کے جذبات مجروح ہوں۔کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان اس صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔"

قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں ملوث افراد کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایسا شرمناک اور گھناؤنا فعل کرنے والے کوئی بھی رعایت کا مستحق نہیں اور ان کو جلد سے جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے مقدمے فوجی عدالتوں کو بھٰیجے جارہے ہیں۔"

ادھر حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ قصور میں ظلم ہوا جس پر ان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ پیر کے روز ہری پور میں قومی اسملبی کے ایک حلقے میں ضمنی انتخابات کے لیے اپنی جماعت کے ایک امیدوار کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جھوٹ بول کر اس واقع کو زمین کا تنازع قرار دیا۔

انہوں نے الزم لگایا کہ پولیس اہلکاروں سے غلط کام کرائے جارہے ہیں۔ پولیس متاثرہ لوگوں پر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کی جلد تحقیق کرنے کا اعلان کیا ہے۔کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس وقع پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری تفتیش اور مقدمہ چلانے کے علاوہ بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایچ آر سی پی کے مطابق قصور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد انہیں نشانہ بنانے کے وقت اور مقام یا اس معاملے کے زمین کے کسی جھگڑے سے تعلق ہونے یا نہ ہونے پر ابہام ہو سکتا ہے لیکن اب یہ بات یقینی ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کیا گیا اور اس کو فلمایا بھی گیا۔"

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ دیکھا جائے کہ ان ویڈیوز کے بنائے جانے کا مقصد مالی مفاد اٹھانا تو نہیں تھا۔بیان کے مطابق "فوجداری مقدمات میں عدالتی کمیشن اور انکوائریاں شاز ونادر ہی مقصد پورا کرتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کےمعاملے کی تحقیقات کے لیے آزادانہ شفاف اور پیشہ وارانہ تفتیش کا متقاضی ہے۔"