1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچوں سے بیگار لئے جانے کے خلاف عالمی دن

آج، جمعہ کے روز پوری دنیا میں بچوں سے بیگار لئے جانے کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

default

بھارت میں پانچ سے لے کر چودہ سال تک کی عمر کے تقریباً تیرہ ملین بچےمحنت مشقت پر مجبور ہیں

ترقیاتی امور کی وفاقی جرمن وزیر ہائیڈے ماری وچورک سوئیل کہتی ہیں، یہ ایک اسکینڈل ہے کہ آج بھی دنیا میں ہر ساتویں بچے سے بیگار لی جا رہی ہے۔

دنیا میں مشقت پر مجبور کئے جانے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ملک بھارت میں ہے، جہاں حکومت خود یہ بات مانتی ہے کہ ملک میں پانچ سے لے کر چودہ سال تک کی عمر کے تقریباً تیرہ ملین بچےمحنت مشقت پر مجبور ہیں۔ اِس کے برعکس امدادی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ بھارت میں ایک سو ملین بچے اسکول جانے کی بجائے مختلف طرح کے کام کرتے ہیں۔ اِس کی ایک مثال کم سن راج کمار ہے، جو اپنی بہن کے ساتھ تعمیراتی کمپنیوں کے لئے پتھر توڑنے کا کام کرتا ہے۔

Welttag gegen Kinderarbeit - Indien: Bombay Flash-Galerie

ایک کم سن بچّی بھارتی جھنڈیاں فروخت کرتے ہوئے


اِن بچوں سے انتہائی سخت کام لئے جاتے ہیں جبکہ اِنہیں زیادہ اُجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔ بھارت میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین کو متعارف ہوئے بیس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور خاص طور پر قالین بافی کی صنعت میں اِن کے مثبت اثرات بھی سامنے آسے ہیں لیکن عمومی طور پر اِن قوانین کے باوجود حکومت کو اِس شعبے میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہی۔

ہزارہا بچے بھارت کی سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں۔ جرائم پیشہ گروہ بچوں کو فاقے کرواتے ہیں یا اُنہیں زخمی کر دیتے ہیں تاکہ لوگ اُن پر ترس کھا کر زیادہ پیسے دیں۔ بین الاقوامی ادارہء محنت آئی ایل او کے اعدادوشمار کے مطابق آبادی میں اضافے کے باوجود گذشتہ عشرے کے پہلے نصف حصے میں چائلڈ لیبر کے شکار بچوں کی تعداد 246 ملین سے کم ہو کر 215 ملین رہ گئی۔ یہ ادارہ سن 2016ء تک چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کی اُمید کر رہا ہے۔ تاہم رواں ہفتے اِس ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ چائلڈ لیبر میں کمی کے لئے گذشتہ عشرے کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں پر موجودہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Kinderarbeit in Ägypten

مصر میں مزدوری کرتا ہوا ایک بچّہ

بھارت کے تقریباً تین سو ملین باشندے خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اِس عالمگیر بحران کے باعث خدشہ ہے کہ زیادہ تعداد میں خاندان غربت کا شکار ہوں گے اور اپنے بچوں کو محنت مشقت کے لئے بھیجنے پر مجبور ہوں گے۔ ایسے خاندان اپنے لڑکوں کو پھر بھی اسکول بھیجنے اور پڑھانے کی کوشش کریں گے جبکہ لڑکیوں کو کم عمری میں ہی کام پر بھیجنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد کا اندازہ 1.8 ملین لگایا گیا ہے، جن کا جسم فروشی کے کاروبار میں استحصال کیا جاتا ہے۔