بچوں اور بچیوں میں سب سے بڑا فرق، ٹوائلٹ کا استعمال | سائنس اور ماحول | DW | 25.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بچوں اور بچیوں میں سب سے بڑا فرق، ٹوائلٹ کا استعمال

ناروے کنڈرگارٹن کے ایک تحیقی مطالعے میں اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ دو سال کی عمر میں بچیاں بچوں سے زیادہ خود مختار اور ملنسار ہوتی ہیں۔ دو سالہ لڑکوں اور لڑکیوں کی عادات میں فرق جانیے۔

ناروے کی یونیورسٹی آف سٹاونگر کے ریڈنگ سینٹر کے اس تحقیقی مطالعے کے شریک مصنف اوڈ ٹوریل ملانڈ کا کہنا تھا، ’’ہم امید کر رہے تھے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی عادات میں فرق ہو گا لیکن اتنا زیادہ فرق دیکھ کر ہم حیران رہ گئے ہیں۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ عادات کے لحاظ سے ان کے درمیان سب سے بڑا فرق ٹوائلٹ کے استعمال کا ہے۔ اکیس اعشاریہ تین فیصد لڑکیاں ایسی تھیں، جنہوں نے دو سال کے بعد نیپی پہننا ترک کر دیا تھا۔ جب لڑکیوں نے ٹوائلٹ جانا ہوتا تو وہ اس کے لیے وہ مختلف اشارے استعمال کرتیں جبکہ لڑکوں میں یہ شرح صرف سات اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔

اگر بات کھانے یا پینے کی کریں تو اس میں بھی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ خود مختار ہیں اور ان کے درمیان یہ شرح باسٹھ اعشاریہ ایک فیصد اور انچاس اعشاریہ سا ت فیصد رہی۔

یہ مطالعہ ایک جرمن بیسڈ ’ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشنل‘ جرنل میں شائع ہوا ہے جو کہ پانچ سو پینتیس لڑکوں اور پانچ سو نو لڑکیوں کے تین مہینوں کے ایک منظم مشاہدے پر مشتمل ہے۔ ان بچوں عمریں تیس یا تینتیس ماہ کے درمیان تھیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لڑکیاں لڑکوں کی نسبت زیادہ سماجی مہارت رکھتی ہیں اور وہ کنڈر گارٹن کی بہت سی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ جیسے کہ گول دائرے بنانا یا کھانے کے لیے کچھ آسان سا بنانا۔ وہ دوسرے بچوں سے زیادہ بات چیت بھی کرتی ہیں۔

ٹوریل ملانڈ کے مطابق بڑی حد تک یہ ساری سرگرمیا ں بچوں کی زبان کی مہارت سے جڑی ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کی بولنے کی مہارت کی وجہ سے وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کا اظہار بہت اچھے طریقے سے کر لیتی ہیں۔ زبان ہی کی وجہ سے بچوں کی مختلف سرگرمیوں پر اثر پڑتا ہے جیسے کہ کھانے کے دوران وہ باتوں میں زیادہ حصہ نہیں لیتے۔

ناروے کے کنڈرگارٹنز میں تقریباﹰ تریانوے فیصد خواتین اساتذہ ہیں اور یہ تما م مشاہدے اور ریسرچ ان اساتذہ نے ہی کی ہے۔