1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بچتی پیکیج کے خلاف جرمنی میں مظاہرے

چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت نے آئندہ چار برسوں کے دوران 80 ارب یورو کا جو بچتی پیکیج تجویز کیا ہے، اُس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خود حکمران جماعت کے اندر بھی اِس پیکیج پر تنقید میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

بچتی پیکج کے خلاف مظاہرے میں شریک ایک احتجاجی

12 جون بروز ہفتہ جرمنی بھر میں اِس پیکیج کے خلاف نکالے جانے والے جلوسوں میں ہزارہا شہری شریک ہوئے۔ سب سے بڑا جلوس دارالحکومت برلن میں نکالا گیا، جس میں منتظمین کے اندازوں کے مطابق پندرہ تا بیس ہزار افراد شریک ہوئے۔ شٹٹ گارٹ میں نکالے جانے والے شرکاء کی تعداد پولیس نے دَس ہزار جبکہ منتظمین نے بیس ہزار بتائی ہے۔ یہ جلوس ٹریڈ یونین تنظیموں، بائیں بازو کی لیفٹ پارٹی اور کئی دیگر سماجی گروپوں کے مشترکہ پلیٹ فارم سے منظم کئے گئے۔

جلوسوں کے شرکاء نے جو بینرز بلند کر رکھے تھے، اُن پر اِس طرح کے نعرے درج تھے:’’بحران کا نام سرمایہ دارانہ نظام ہے‘‘، ’’روزگار، انسانی حقوق، محفوظ مستقبل، سب کے لئے‘‘ اور ’’پینشن اتنی ہونی چاہئے کہ اُس سے گزر بسر بھی ہو سکے‘‘۔ منتظمین نے آئندہ مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

Proteste Sparpaket Berlin

برلن میں مظاہرہ

گزشتہ پیر کو میرکل کی کابینہ کے منظور کردہ بچتی پیکیج میں اگلے چار برسوں کے دوران صرف بیروزگاری الاؤنسز ہی کی مد میں 30 ارب یورو کی بچت کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اپوزیشن ہی نہیں بلکہ خود حکمران جماعت کے کئی سیاستدان بھی اِس پیکیج میں، جس کی پارلیمان سے منظوری ابھی باقی ہے، بے روزگاروں اور کنبوں کے لئے مراعات ختم کرنے کی تجاویز کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔

رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے کے مطابق 79 فیصد جرمن شہریوں کے خیال میں یہ پیکیج سماجی اعتبار سے متوازن نہیں ہے جبکہ 93 فیصد نے یہ کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے بچتی اہداف کے حصول کے لئے کافی نہیں ہوں گے۔ صوبے سارلینڈ کے وزیر اعلیٰ پیٹر ملر نے، جو میرکل کی قدامت پسند

Deutschland Finanzkrise Sparen Haushalt Angela Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل: فائل فوٹو

جماعت ہی کے ایک رکن ہیں، اِس پیکیج کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اِس میں غریب شہریوں سے زیادہ قربانیاں مانگی گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا، زیادہ منصفانہ اور قابلِ قبول بات یہ ہوتی کہ پُر تعیش ساز و سامان، مہنگی کاروں اور شیمپین وغیرہ پر ایک طرح کا لگژری ٹیکس متعارف کروایا جاتا۔

تاہم چانسلر میرکل نے یہ الزامات رَد کر دئے ہیں کہ یہ پیکیج غیر منصفانہ ہے۔ اُنہوں نے اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ سے باتیں کرتے ہوئے کہا، لوگ جانتے ہیں کہ بچت کرنا اور بجٹ خسارے کو کم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ میرکل کی حکومت سن 2013ء تک اپنے بجٹ خسارے کو یورپی یونین کی مقرر کردہ حدود کے اندر لانا چاہتی ہے تاہم وہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی، حالانکہ گزشتہ سال اکتوبر میں دوبارہ حکومت سنبھالنے پر اُنہوں نے بھرپور انداز میں ایسا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یونان کے قرضوں کے بحران پر تاخیر سے ردعمل ظاہر کرنے اور اپنے حکومتی اتحاد کے اندرونی اختلافات کے باعث میرکل کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM