1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بيوی پر تشدد کے باعث سفارتکار کی دہلی واپسی

بھارتی حکومت نے اعلان کيا ہے کہ وہ اپنے ايک سينئر سفارتکار کو اس لئے برطانيہ سے واپس بلا رہی ہے کيونکہ اس سفارتکار پر اپنی اہليہ پر تشدد کرنے کا الزام ہے۔

default

بھارت ميں مذہبی تنازعہ

ليکن بھارتی حکومت نے يہ بھی کہا گيا ہے کہ وہ اپنے اس سفارتکار کے سفارتی تحفظ کو ختم نہيں کررہی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے کہا کہ سفارتی افسر کو نئی دہلی واپس بلانے کا فيصلہ کيا جاچکا ہے۔ برطانيہ کے ايک اخبار ميل آن سنڈے نے خبر دی ہے کہ انيل ورما نامی اس سفارتکار نے 11 دسمبر کو شمالی لندن ميں واقع اپنے مکان ميں اپنی بيوی پرحملہ کيا تھا۔

U-Bahnbau in Neu Dehli Indien

دہلی ميں انڈر گراؤنڈ ريلوے کی تعمير

ہمسايوں نے ورما کی اہليہ پارو ميتا کی چيخيں سننے کے بعد اُنہيں گھر سے نکل کر سڑک پر بھاگتے ہوئے ديکھا۔ اُن کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ اُس نے بھارت سے سرکاری طور پر ورما کے سفارتی تحفظ کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ ان کے خلاف برطانيہ ميں قانونی کارروائی کی جاسکے۔

تاہم بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان پرکاش نے کہا کہ کسی بھی مجرمانہ اقدام کے ثابت ہونے پر بھارتی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ’’ ہم اس معاملے پر بہت سنجيدگی سے توجہ دے رہے ہيں۔ ہمارے يہاں قانون کی پابندی کی جاتی ہے، جو بھی کوئی غلط کام کرتا ہے اس کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔‘‘

بتايا جاتا ہے کہ بھارتی سفارتکار نے بار بار اس کرسمس ٹری کی وجہ سے غصہ ظاہر کيا جو اُن کی بيوی کو ايک رشتے دار نے ديا تھا۔ اخبار دی ميل کے مطابق پارومتا ورما اب اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ کہيں چھپی ہوئی ہيں اور اُنہوں نے انسانی ہمدردی کی بنياد پر برطانيہ ميں قيام کی درخواست داخل کر دی ہے۔ ايک سابق بھارتی سفير کے۔سی۔ سنگھ نے کہا کہ سفارتکار کے سفارتی تحفظ کو ختم کر دينا بھارتی وزارت خارجہ کی کسی بھی کارروائی کا حصہ نہيں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امريکہ اور روس جيسے بڑے ممالک اپنے سفارتکاروں کے خلاف خود کارروائی کرتے ہیں۔ وہ انہيں اپنے آپ سے جدا نہيں کرتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ہونا چاہيے اور ہوگا ليکن وہاں برطانيہ ميں نہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس