1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوکو حرام کے مشتبہ عسکریت پسندوں سے حکومتی فورسز کی جھڑپ

افریقی ملک نائیجیریا میں اسلامی انتہاپسندوں کی ایک تنظیم بوکو حرام کچھ خاص علاقوں میں بہت فعال اور متحرک ہے مگر یہ تنظیم ملک کے مختلف حصوں میں بھی دہشت گردانہ واقعات میں ملوث خیال کی جاتی ہے۔

default

نائجیریا کے حکام کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں اور حکومتی سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک جھڑپ شمالی شہر داماتورو (Damaturu) میں ہوئی۔ جمعرات کی رات کے پہلے پہر ہونے والی جھڑپ کے ساتھ شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اسی ویک اینڈ پر بھی سکیورٹی فورسز اور مبینہ جہادیوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں فریقین کے نصف درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کانو شہر میں ہونے والی اس جھڑپ کے دوران سرکاری فوج نے چودہ مسلح عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ اسلحے کی بھاری مقدار بھی قبضے میں لے لی تھی۔

نائجیریا کے صوبے یوبے (Yobe) کے پولیس کمشنر لاوان ٹانکو (Lawan Tanko) کے مطابق جھڑپ کی وجہ پولیس کا مشتبہ افراد کے ایک خفیہ ٹھکانے پر دھاوا بولنا تھا۔ پولیس کمشنر کے مطابق مبینہ جہادیوں کا ٹھکانہ ریاست یوبے کے مرکزی شہر کے قلب سے باہر واقع تھا۔ پولیس کمشنر نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ خفیہ ٹھکانے میں ہلاکتیں ضرور ہوئی ہیں لیکن رات کی وجہ سے لاشوں کو قبضے میں نہیں لیا جا سکا۔

Nigeria Anschläge Flash-Galerie

پانچ نومبر کے روز داماتورو میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملوں میں پانچ درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

داماتورو میں پانچ نومبر کے روز مشتبہ تنظیم بوکو حرام کے مسلح اراکین کی فائرنگ اور بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 65 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ حملے مساجد، تھانوں اور گرجاگھروں پر کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے جمعرات کی رات ہونے والے دھماکوں اور فائرنگ کے بعد شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو حالت جنگ میں محسوس کرتے ہیں اور انہیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کا محاصرہ کیا جا چکا ہے۔

اسلامی عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام کو سخت حکومتی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر پرتشدد واقعات کو قدرے کنٹرول کیا گیا ہے لیکن یہ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے اور کسی بھی وقت جہادیوں کا لاوا پھوٹ سکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس