1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوکو حرام کا آخری ٹھکانہ تباہ، نائجیریا کے صدر کا دعویٰ

نائجیریا کے صدر محمد بخاری نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو اس کے آخری مضبوط ٹھکانے’کیمپ زیرو‘ میں بھی شکست دے دی گئی۔ اس افریقی ملک میں اس پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی نے ابوجہ حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلام پسند جنگجو گروہ بوکو حرام کو ملک کے شمال مشرقی علاقے میں واقع سامبیسا کے جنگلات میں کچل دیا گیا ہے۔ نائجیریا کے صدر محمد بخاری نے چوبیس دسمبر بروز ہفتہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگل میں بوکو حرام کے ’کیمپ زیرو‘ نامی ٹھکانے پر ملکی دستوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

داعش نے بوکوحرام کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

نائجیریا میں دو سو مہاجرین بھوک اور پیاس سے ہلاک

نائجیریا: دو برس قبل اغوا کی گئی لڑکیوں میں سے ایک بازیاب

بخاری کے مطابق یہ کامیابی جمعے کے دن حاصل ہوئی تاہم چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹینینٹ جنرل توکر بوراتی نے انہیں اس بارے میں ہفتے کے دن مطلع کیا۔ بخاری نے اس پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے اس آخری ٹھکانے کو تباہ کرنے سے شدت پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

بخاری نے کہا کہ انہیں بوراتی نے بتایا ہے کہ ’ شدت پسند اب پسپا ہو کر جائے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں لیکن ان کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہيں‘۔ صدر بخاری نے ملکی فوج سے کہا ہے کہ وہ جنگجوؤں کا تعاقب جاری رکھے اور اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے کچل دے۔

نائجیریا میں بوکو حرام کی شدت پسندی اور حملوں کی وجہ سے گزشتہ سات برسوں کے دوران کم ازکم پندرہ ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ تقریبا دو ملین نفوس بے گھر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران بوکو حرام کے جنگجوؤں نے اپنی پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک چاڈ، کیمرون اور نائجر میں بھی کئی حملے کیے تھے۔

شدت پنسد گروہ بوکو حرام نائجیریا میں اسلامی قوانین کی سخت تشریحات کا نفاذ چاہتا ہے۔ یہ گروہ مغربی تعلیم اور لباس کو حرام قرار دیتا ہے جبکہ ملک میں شریعت کے نفاذ کی خاطر حکومتی اہلکاروں کے علاوہ اقلیتی گروہوں کو بھی نشانہ بناتا رہتا ہے۔

 اس گروہ نے چودہ اپریل سن 2014 میں چیبوک کے ایک اسکول سے 276 طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر اب بھی اس شدت پسند گروہ کی قید میں ہیں۔ صدر بخاری نے ملکی فوج سے کہا ہے کہ وہ ان بچیوں کی بازیابی کی کوششوں میں تیزی لائیں۔

 

 

DW.COM