1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوکو حرام نے چیبوک سے اغواء کی گئیں 82 طالبات کو چھوڑ دیا

نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے تین برس قبل چیبوک سے اغواء کی گئی طالبات میں سے مزید 82 کو چھوڑ دیا ہے۔ اس گروپ نے 2014ء میں 276 اسکول کی طالبات کو اغواء کر لیا تھا۔

بوکوحرام کی طرف سے تین برس قبل یرغمال بنائی گئی طالبات میں 82 کو رہا کرنے کی تصدیق نائجیریا کے میڈیا کے علاوہ ایک سینیئر حکومتی وزیر کی طرف سے بھی کر دی گئی ہے۔

چیبوک سے اغواء کی گئیں طالبات کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم ’’برِنگ بیک آور گرلز‘‘ یعنی ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ کے بانیوں میں سے ایک بُوکی شونیبارے کے مطابق، ’’یہ بہت ہی خوش کن خبر ہے کہ ہماری 80 سے زائد لڑکیاں واپس آ رہی ہیں۔ یہ ان لڑکیوں کے والدین، چیبوک کے عوام اور ان کے رشتتہ داروں اور دوستوں کے لیے خوشی کی خبر ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘

نائیجریا کے شہر چیبوک سے دو سو زائد اسکول کی طالبات کے اغواء کی خبر نے دنیا بھر کو دہلا دیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم میں سابق امریکی خاتون اول مشیل اوباما بھی شریک تھیں۔

 14 اپریل 2014ء بوکوحرام کے عسکریت پسندوں نےاسکول کی 276  طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔ ان میں سے 50 طالبات فوری طور پر ان کے چُنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ تاہم اس گروپ نے گزشتہ برس اکتوبر میں 21 طالبات  رہا کیا تھا۔ رواں برس اپریل میں نائجیریا کے صدر محمد بخاری نے کہا تھا کہ حکومت یرغمال طالبات کو چھڑانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

Nigeria Chibok-Mädchen in Abuja (picture-alliance/AP Photo/S. Aghaeze/)

بوکوحرام نے گزشتہ برس اکتوبر میں 21 طالبات  رہا کیا تھا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر محمد بخاری نے کہا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے چنگل سے رہائی پانے والی ان 82 طالبات سے ملاقات کریں گے۔ اس حوالے سے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بخاری دارالحکومت ابوجا میں ان طالبات کا استقبال کریں گے۔

صدر محمد بخاری کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق ان طالبات کو گرفتار شدہ مشتبہ عسکریت پسندوں کے بدلے رہائی دلائی گئی ہے۔ ہفتے کے روز رہائی پانے والی 82 طالبات کے بعد اب 113 طالبات اس شدت پسند گروپ کے قبضے میں رہ گئی ہیں۔