1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوکوحرام کے دو مراکز سے تین سو سے زائد مغویوں کی بازیابی

عسکری تنظیم بوکوحرام کے خلاف نائجیرین فوج کا آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔ ایک تازہ کارروائی میں فوج نے دو مراکز سے تین سو سے زائد اغوا شدہ افراد کو رہا کروا لیا ہے۔

default

نائجیرین فوجی ایک آپریشن کی جانب بڑھتے ہوئے

افریقی ملک نائجیریا کی فوج نے ملکی صدر محمد بخاری کی ہدایت پرعسکری تنظیم بوکو حرام کے خلاف اپنی حالیہ کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ فوج کی ایک یونٹ نے اُن 338 افراد کو آزاد کروا لیا ہے جنہیں بوکوحرام نے اغوا کے بعد اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔ رہائی پانے والے افراد میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مختلف عمر کے بچوں کی تعداد 192 اور خواتین کی 138 بتائی گئی ہے۔

فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ اِن افراد کو سامبیسا کے جنگلات میں قائم بوکو حرام کے دو مراکز میں مقید کر کے رکھا گیا تھا۔ یہ مراکز سامبیسا کے وسیع جنگلاتی علاقے کے اندر بُلاجیلین اور ماناواشے دیہات میں قائم تھے۔ فوجی کارروائی کے دوران اِن دونوں مراکز کی حفاظت پر مامور جہادیوں سے مسلح جھڑپ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم تیس جہادیوں کو جھڑپ کے دوران ہلاک بھی کر دیا گیا۔ مراکز پر قبضے کے بعد تلاشی کے دوران فوج نے اسلحے اور ہتھیاروں کے بڑے ذخیرے کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔ تاہم ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ سامبیسا کا جنگلاتی علاقہ نائجیریا کے شورش زدہ شمال مشرق میں واقع ہے۔

Boko Haram Flagge

بوکوحرام کا جھنڈا اب کئی مقامات سے فوجی آپریشن کے بعد اتار دیا گیا ہے

نائجیریا کی زمینی فوج کو ایئر فورس کے جنگی طیاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ نائجیرین ایئر فورس کے سربراہ صدیق ابوبکر کا کہنا ہے کہ ہوائی حملوں سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو جس طرح تباہ کیا جا رہا ہے، وہ زمینی فوج کی پیش قدمی میں معاونت کا باعث بنے ہیں اور فوجی دستے کامیابی سے جہادیوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرتے جا رہے ہیں۔ ایئر فورس نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فضا سے جاری نگرانی کے دوران اب بوکوحرام کے ایندھن اور گاڑیوں کے قافلوں کو بھی نشانہ بنانے کا سلسلے شروع ہے۔

نائجیریا کے موجودہ صدر محمد بخاری نے رواں برس مئی میں صدارتی الیکشن جیت کر منصبِ صدارت سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں بار بار کہا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو بوکوحرام کے فتنے کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ بخاری نے اپنے فوجی کمانڈروں کو رواں برس دسمبر تک کی مہلت دے رکھی ہے کہ وہ بوکوحرام کو مکمل طور پر شکست دے کر اِس کا صفایا کر دیں۔