1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بوڑھے لوگ بھی آسودہ جنسی زندگی گزارسکتے ہیں‘

کینیڈا کے محقیقین کی ایک رپورٹ کے مطابق جسمانی ناتوانی اور بڑھاپے کی کمزریوں کے باوجود معمراورعمررسیدہ جوڑوں میں دوسرے افراد کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے اوروہ اطمینان بخش جنسی زندگی گزارتے ہیں۔

default

کینیڈا کے شہر مانٹریال میں قائم کیوبیک یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسر Gilles Trudel سمیت کئی دیگرمحقیقین نے 508 معمر جوڑوں سے آسودہ زندگی کے پیمانے کو سمجھنے کے لئے سوالات کئے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کی عمریں 65 برس سے اوپرتھیں۔

Spanier Dyadic Adjustment Scale کہلانے والی اس تحقیق میں بوڑھے جوڑوں سے نہ صرف ان کی جنسی زندگی کے بارے میں سوالات پوچھے گئے بلکہ اُن سے یہ بھی دریافت کیا گیا کہ وہ آپس میں گفتگو کس طرح کرتے ہیں اور مل جل کر ہم آہنگی کے لئے کیا کیا کام کرتے ہیں۔

پروفیسرٹروڈیل کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جوڑوں کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے۔ لہذا وہ کئی کام ایک ساتھ کرتے ہیں اور کچھ لوگ تو دوسری دفعہ بھی ہنی مون پر جاتے ہیں۔ لیکن ریٹائرمنٹ کی زندگی کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپس کے جواختلافات وقت نہ ہونے کی وجہ سے سر نہیں اٹھا پاتے ہیں، ان کے بھی رونما ہونے کے زیادہ امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فراغت کے یہ لمحات اضطراب اور قنوطیت کو بھی ہوا دیتے ہیں۔

Wahlen Indien 2009 ein älteres Paar

اس ماہر نفسیات کے مطابق عمر رسیدہ افراد کی جنسی زندگی کے حوالے سے بہت سے افسانوی قصے ہیں۔ تاہم اب بوڑھے لوگوں کی زندگی میں شہوانیت کوئی شجرِممنوع نہیں ہے۔ ٹروڈیل کے مطابق جب انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اُس میں جنسی طور پر بھی تبدیلیاں اور پیچدگیاں رونما ہوتی ہیں۔ بڑھاپے میں مردوں کونُعوضی یا اِستادنی کا مسئلہ درپش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عضو تناسل میں تحریک بہت کم ہوجاتی ہے۔ بوڑھی خواتین میں اندامِ نہانی بہت زیادہ چکنی ہوجاتی ہے اور اس کی سختی نہ ہونے کے برابرہوتی ہے۔

پروفیسرٹروڈیل کے مطابق تحقیق کے دوران معمرجوڑوں نے بتایا کہ ان مسائل کے باوجود بوڑھے افراد دوائیوں سے یا بغیر دوائیوں کے بھی جنسی آسودگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹروڈیل کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق انتہائی خفیہ انداز میں کی گئی اور سوالات پوچھے جانے والے جوڑوں کو کہا گیا کہ وہ کمپیوٹر کا بٹن دبائیں، جس کے بعد ان کے جوابات کو غیرمحسوس انداز میں ریکادڑ کیا گیا۔

ماضی میں بوڑھے افراد شازونادر ہی اپنے جیون ساتھی کو داغِ رفاقت دے کر اُسے عمر کے آخری حصے میں طلاق کے زہر سے مارتے تھے۔ لیکن تحقیق کے دوان یہ بھی دیکھا گیا کہ پانچ سے چھ فیصد معمر جوڑے ایک ساتھ زندگی نشیب و فراز دیکھنے کے بعد آخری عمر میں تنہا راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں۔ ان میں کچھ افراد نے 70 سال کی عمر میں علیحدگی اختیار کی توکچھ نے 70 کے بعد بھی اپنے جیون ساتھیوں کو طلاق دی۔

کچھ بوڑھے اشخاص نے اپنے ساتھیوں کا اس وجہ سے طلاق دی کہ وہ اس عمر میں بھی معاشقے بازی سے باز نہ آئیں اورزندگی میں کئی سالوں تک ساتھ دینے والے ساتھی کے ساتھ بے وفائی کر کے پہلی ہی نظر میں کسی دوسرے شخص کو دل دے بیٹھے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نفسیات نے معمر جوڑوں کو آپس کے تعلقات بہتر بنانے کے لئے مختلف نسخے بھی تجویز کئے۔ ان نسخوں کے ذریعے معمر جوڑوں کو بتایا گیا کہ وہ کس طرح آپس کے رابطوں کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں اور کیسےاپنے ساتھی کے احساسات کو سمجھ سکتے ہیں۔

پروفیسر ٹروڈیل کے مطابق اس تحقیق کے مثبت نتائج کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ماہرین نے اس میں طلاق یافتہ جوڑوں کا دعوت نہیں دی تھی۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: عدنان اسحاق